سیلاب کی تباہ کاریاں؛پاکستان کی بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے امداد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان نے شدید بارشوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب کے بعد بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے مدد کی اپیل کی ہے۔پاکستان کے شمال مغربی اور جنوبی علاقوں تباہ کن سیلاب کے بعد انسانی بحران پیدا ہوچکا ہے اور ہزاروں لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ جنوبی ایشیائی ملک کی معیشت پہلے ہی زبوں حال ہے۔

پاکستان کی وفاقی وزیربرائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کے مطابق جون سے اب تک مون سون کی شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب سے 913 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اورملک بھر میں فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہزاروں افراد اب پناہ اور خوراک سے محروم ہیں اور قوم کے پاس سیلاب زدگان کے لیے امدادی سامان کی کمی ہے۔

انھوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی انسانی تباہی ہے۔انھوں نےبتایا کہ سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، سندھ اور بلوچستان کے صوبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیلی ویژن فوٹیج میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لوگوں کو پانی سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو اپنا سامان سروں پراٹھائے محفوظ مقامات کی جانب جا رہے ہیں۔

شیری رحمٰن کے مطابق سیلاب سے کپاس سمیت لاکھوں ایکڑکھیتوں پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ شدید بارشیں زرعی پیداوار کو شدید متاثر کرسکتی ہیں۔اس نے پہلے ہی کہا تھا کہ جولائی میں شروع ہونے والے مالی سال میں معاشی نمو پچھلے سال کے چھے فی صد سے کم ہوکرتین سے چار فی صد رہ جائے گی۔

دریں اثناء مسلح افواج اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اہلکار سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے کشتیوں اور ٹرکوں کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ سیلابی ریلے میں ریل کی بعض پٹڑیوں کے بہ جانے کے بعد ریلوے نے اپنی بعض ٹرینیں معطل کردی ہیں۔

ایک جانب ملک کے چاروں صوبے خیبرپختونخوا، بلوچستان ، پنجاب اور سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبردآزما ہیں اور دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت ایشیا میں افراط زرکی بلندشرح کا مقابلہ کر رہی ہے اورزرمبادلہ کے ذخائرمیں ڈالر کی قلت کو پوراکرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کا اجلاس پیر کو ہوگا اور توقع ہے کہ اس سے 6 ارب ڈالر کا قرض پروگرام دوبارہ شروع ہو جائے گا اور پاکستان کو اس کے تحت ایک ارب ڈالر ملنے کی امید ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف جمعرات کو قطرکے سرکاری دورے سے واپس آئے ہیں۔قطر کی انویسٹمنٹ اتھارٹی نے پاکستان کی نازک معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں