پاکستان:سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر،متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں ہفتے کے روز مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں مزید پندرہ افراد کی اموات کی اطلاع ملی ہے اور اب تک لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔صوبہ خیبرپختونخوا میں کابل اور سندھ کے دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں پھنس کررہ گئے ہیں۔

کے پی کے ضلع سوات میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مزید تین افراد مارے گئے ہیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔وادیِ سوات کے مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو بچانے اور محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور پتاچلا ہے کہ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ کے پی نے اپنا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اپردیر، کالام اور سوات میں گذشتہ تین روز سے 150 سیاحوں کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے۔

ضلع نوشہرہ میں بھی سیلاب کی سنگین صورت حال کے پیش مکینوں کےانخلاکاعمل جاری ہے۔نوشہرہ میں دریائے کابل میں پانی کی سطح تین لاکھ کیوسک سے زیادہ ہو چکی ہے۔سیلاب نے ضلع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی اور متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔دریائے ابل میں پانی کی سطح بڑھنے اور دریائے سوات کے بہاؤ کو منظم کرنے والے منڈا ہیڈ ورکس کا کچھ حصہ گرنے کے بعد سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر نوشہرہ اور چارسدہ میں لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس وقت پاکستان کا نصف سے زیادہ حصہ پانی کی زد میں ہے اور مون سون کی غیرمعمولی بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلاب کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھرہو چکے ہیں۔شدید سیلابی صورت حال میں کمی کے کوئی آثارنظرنہیں آرہے ہیں۔

تازہ اندازوں کے مطابق بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے 300 بچوں سمیت ایک ہزار سے زیادہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اس کے نتیجے میں قریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ یہ تعداد ملک کی کل آبادی کا قریبا 15 فی صد ہے۔بالواسطہ متاثر ہونے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روزصوبہ سندھ کے ضلع سجاول میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے 38 ارب روپے کی گرانٹ مختص کی ہے اورہرخاندان میں 25 ہزار روپے تقسیم کیے جائیں گے۔

سیلاب سے متاثرہ افراد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پہلے ہی صوبہ سندھ کو 15 ارب روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت بلوچستان کے بعد صوبہ سندھ میں ہر خاندان میں امدادی رقم کی تقسیم کا آغاز ہو چکا ہے۔

انھوں نے کے پی کے میں سیلاب کی ابترصورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ملک بھر میں بھاری نقصانات دیکھنے میں آ رہے ہیں لیکن مشترکہ اور مسلسل کوششوں سے ہم اس قدرتی تباہی کے تناظر میں درپیش چیلنجوں پر قابو پا لیں گے۔

دریں اثنا صوبہ پنجاب کی حکومت نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے گھروں میں پانی داخل ہونے اور دیگر عمارتوں کے بہ جانے کے بعد لوگوں کو کشتیوں کے ذریعےمحفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ افراد کو امداد مہیا کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کارلارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں