آئی ایم ایف نے پاکستان کے امدادی پروگرام کی منظوری دے دی،1.17 ارب ڈالرملیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کی بحالی کی منظوری دے دی ہے۔اس کے تحت معاشی بحران اور تباہ کن سیلاب سے دوچار ملک کو 1.17 ارب ڈالر کی ساتویں اور آٹھویں قسط ملے گی۔

انھوں نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں اطلاع دی ہے کہ’’الحمدللہ آئی ایم ایف بورڈ نے ہمارے ای ایف ایف پروگرام کی بحالی کی منظوری دے دی ہے‘‘۔انھوں نے قوم کو مبارک باد پیش کی اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے’سخت فیصلے‘کیے اور’پاکستان کودیوالہ ہونے سے بچالیا ہے‘۔

آئی ایم ایف اب فوری طور پرپاکستان کوقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالردے گا اور یکم جولائی سے شروع ہونے والے رواں مالی سال کے باقی عرصے میں 4 ارب ڈالر تک مہیّاکرسکتا ہے۔

تاہم عالمی قرض دہندہ ادارے کی جانب سے دمِ تحریراس ضمن میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

معاہدے پرپیش رفت

سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِحکومت میں 2019 میں پاکستان آئی ایم ایف کے اس پروگرام میں شامل ہوا تھا لیکن آج تک اس کواس کے تحت صرف آدھے فنڈز جاری کیے گئے ہیں کیونکہ حکومت اہداف کو ٹریک پر رکھنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو آخری قسط اس سال فروری میں جاری کی گئی تھی اور اگلی قسط مارچ میں پروگرام پر نظرثانی سے مشروط تھی لیکن معزول وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے مہنگے ایندھن کی قیمتوں کومحدود رکھنے کی پالیسی متعارف کرائی تھیں جس سے مالی اہداف اور پروگرام پٹڑی سے اترگئے تھے۔

ان کے بعد وزیراعظم شہبازشریف کی نئی مخلوط حکومت نے قیمتوں کی حد ختم کردی تھی اور ایک ماہ کے دوران میں پِٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 66 سے 92 فی صد تک اضافہ کیا گیاتھا جس سے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے۔

21جون کو پاکستان کے حکام اور آئی ایم ایف کے عملہ کے درمیان تعطل کا شکار قرضوں کے پروگرام کی بحالی کے لیے رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ کے بارے میں مفاہمت طے پاگئی تھی اور پاکستانی حکام نے مزید 436 ارب روپے محصولات کے ذریعے اکٹھا کرنے اور بتدریج پٹرولیم لیوی کو بڑھا کر 50 روپے فی لیٹرکرنے کا عہد کیا تھا۔

اس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے عملہ نے ایک بیان میں تسلیم کیا کہ وفاقی بجٹ پراہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس بنیاد پرپاکستان نے صوبوں کی جانب سے جی ڈی پی کے 4.9 فی صد کے اندرمالی خسارے کو محدود کرنے اور 152 ارب روپے کے فاضل مالی وسائل پیدا کرنے میں مدد کے لیے مرکزکو 750 ارب روپے نقد مہیا کرنے کا تحریری عہد کیا تھا۔

مزید برآں پاکستان کو اب آئی ایم ایف کے مطالبات کو پوراکرنے کے لیے بعض اور سخت اقدامات کرناہوں گے۔ان میں ایک اقدام کےتحت بجلی کی تیاری کی ماہانہ ایندھن کی لاگت کی ایڈجسٹمنٹ کو براہ راست صارفین پرمنتقل کرنے کے علاوہ بجلی کے نرخ میں 7.91 روپے فی یونٹ کا اضافہ کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ خوردہ فروشوں، تاجروں، جیولرز، بلڈرز، ریستوران، آٹوموبائل اور پراپرٹی ڈیلرز وغیرہ جیسے شعبوں کے لیے ایک مقررہ ٹیکس نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں