پاکستان:سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد1136 ہوگئی،خیبرپختونخوا میں مزیدتباہی کا خطرہ برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان بھرمیں سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1136 ہوگئی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں مزید سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں کا خطرہ برقرار ہے۔

ریڈیو پاکستان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی ایک رپورٹ کے حوالے سے خبردی ہے کہ بارش اور سیلاب سے متعلق مختلف واقعات میں 1634 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 7 لاکھ 35 ہزار 375 مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں۔

مزید برآں ملک بھرمیں 3451 کلومیٹر سے زیادہ طویل سڑکیں، 149 پل، 170 دکانیں اور 949,858 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔وہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

صوبہ خیبرپختنونخوا کے ضلع نوشہرہ کے ڈپٹی کمشنر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دریائے کابل میں پانی کی سطح مسلسل کم ہورہی تھی اور اگلے پانچ سے چھے گھنٹے میں اس میں مزید کمی کا امکان تھا۔

چشمہ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی بلند سطح دیکھی گئی ہے جس میں آمد اور اخراج کی سطح بالترتیب 525,362 کیوسک اور 519,362 ریکارڈ کی گئی۔تاہم سیلاب سیل کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ کے پی میں باقی دریا کم، معمول اور درمیانے درجے پر بہ رہے ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے آج ضلع نوشہرہ اور چارسدہ کا دورہ کیا اور سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کے لیے 25 ہزار روپے دینے کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ یہ فنڈز 3 دسمبر تک تقسیم کر دیے جائیں گے۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبہ میں سیلاب کے دوران میں اب تک 42 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔لاکھوں مکانات مکمل طور پرتباہ ہوگئے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔ کالام، کوہستان، سوات اور دیر جیسے علاقوں میں بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب کی نذر ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو دس لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کرہم متاثرین کی بحالی کے لیے دن رات کام کریں گے۔انھوں نے اپنا دورہ مکمل کرنے کے بعد صوبے کو امدادی گرانٹ مہیا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

دوست ممالک سے امداد

پاک فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق پاکستان کے دوست ممالک نے بے مثال سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کی امدادی اور بحالی کی کوششوں میں تعاون کاوعدہ کیا ہے۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ ترکی سے چار فوجی طیارے امدادی سامان لے کر کراچی پہنچ گئے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات سے دو فوجی طیارے نورخان ایئر بیس راولپنڈی اترے ہیں۔

بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات سے ایک فوجی طیارہ آج شام ملک میں پہنچے گا۔چین سے مزید دو طیارے اگلے 48 گھنٹے میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔خلیجی ریاست بحرین نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ایک طیارے کا وعدہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ان طیاروں کے ذریعے بھیجے گئے امدادی سامان میں خیمے، ادویہ اور کھانے پینے کی اشیاء شامل ہیں۔

ادھراسلام آباد میں جاپان کے سفارت خانے نے تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ردعمل میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جے آئی سی اے) کے ذریعے پاکستان کو ہنگامی امدادی سامان (خیمے اور پلاسٹک شیٹس) مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سفارت خانہ کے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی امدادی سامان دومراحل میں پاکستان میں پہنچایا جائے گا، پہلا طیارہ 30 اگست کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پراترنے کی توقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں