سیلاب متاثرین کوخوراک،ادویہ، پانی اوردیگر اشیاء کی فوری ضرورت ہے:شہباز شریف

متاثرین کی مدد کے لیے جمع شدہ عطیات کی رقوم کی پائی پائی شفافیت کے ساتھ خرچ کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے، ریلیف اور ریسکیو کے لیے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو خوراک، ادویہ، پانی اور دیگر اشیاء کی فوری ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے۔ایک ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، لوگوں کے گھر اورکھڑی فصلیں بہ گئی ہیں، 3500 کلومیٹر طویل سڑکیں اور بنیادی ڈھانچا تباہ ہو گیا ہے، حکومت ریلیف اور ریسکیو کے لیے محدود وسائل کے باوجود بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔متاثرین کی مدد کے لیے جمع شدہ رقم کی پائی پائی شفافیت سے خرچ ہو گی اورہم آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک اقدامات جاری رکھیں گے۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہارمنگل کو سیلاب کی صورت حال پر بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو 2010ء میں بھی سیلاب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔تاہم حالیہ سیلاب ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے، 2010ء کے سیلاب میں عالمی برادری کی طرف سے بھرپور مدد کی گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دورے سے سیلاب کی تباہی کا اندازہ ہوا۔ یہ تباہی موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک نتیجہ ہے جس سے پاکستان بھی متاثرہو رہا ہے۔ سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں، 300 بچوں سمیت ایک ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہیں۔کھڑی فصلیں مکمل تباہ ہو گئی ہیں، سندھ میں کھجور، کپاس اور چاول کی فصل ختم ہو گئی ہے۔یہی صورت حال بلوچستان میں بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور مسلح افواج سیلاب سے متاثرہ افراد کی بھرپور مدد کر رہے ہیں تاکہ انھیں ریسکیو اور ریلیف مل سکے، ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، سیلاب متاثرین کے ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹرز اورکشتیوں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سیلاب کی صورت حال انتہائی تباہ کن ہے،اس کے معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔کوئٹہ سمیت کئی شہروں میں بجلی کی سہولت بھی معطل ہو گئی، متاثرین کی مدد کے لیے وزراء اور سیکرٹریز متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں، سکھر اور دیگر علاقوں میں بھی مواصلاتی ذرائع بند ہو گئے جنھیں بحال کیا جا رہا ہے، محدود وسائل کے باوجود ریلیف اور ریسکیو کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس وقت ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے،ایسی صورت حال اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی، ریسکیو اور ریلیف کے بعد بحالی کا کام شروع ہو گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو ہنگامی بنیادوں پر اشیاء خورونوش، ادویہ اور خیمے مہیا کیے جا رہے ہیں، دنیا بھرمیں اپنے دوستوں سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے جس کا انھوں نے مثبت جواب دیا ہے اور چارٹرڈ طیارے امدادی سامان لے کر کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں پہنچ رہے ہیں، کچھ ملکوں نے ٹرین کے ذریعے بھی امدادی سامان بھجوانا شروع کر دیا ہے۔اس سلسلہ میں استنبول سے تہران کے راستے امدادی سامان لے کر ٹرین پہنچ رہی ہے، دیگر ممالک مالی امداد اور سامان مہیا کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قومی میڈیا کی جانب سے سیلاب کی منظرکشی سے امداد شروع ہوئی، بین الاقوامی برادری پاکستان کی مدد کر رہی ہے۔

میاں شہباز شریف نے بتایا کہ ہم نے باہمی مشاورت سے مربوط ریلیف سرگرمیوں کے لیے نیشنل فلڈ رسپانس سنٹر(قومی سیلاب ردعمل مرکز)قائم کردیا ہے جو پی ڈی ایم ایز، ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات کو مربوط بنانے اور امداد دینے والے ملکی و غیر ملکی اداروں کے ساتھ روابط برقرار رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کی مدد کے لیے عطیات کی شکل میں جمع ہونے والی رقم کی پائی پائی شفافیت کے ساتھ خرچ کی جائے گی اور امدادی رقم مستحقین تک پہنچے گی، ہم ترقیاتی فنڈز کا رُخ بھی بحالی کی سرگرمیوں کی طرف موڑیں گے، عالمی برادری، ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی ادارے اس مشکل گھڑی میں قومی تعمیرنوکے عمل میں ہماری مدد کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں