پاکستان کا سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امداد کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے غیر معمولی سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری سے فراخدلانہ امداد کی اپیل کی ہے۔ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے نتیجے میں 1265 افراد مارے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ تین کروڑ تیس لاکھ افراد کی امداد اور بحالی کی سرگرمیوں کے لیے بے پایاں انسانی ردعمل پر زور دیا ہے۔

سیلاب سے ہلاکتوں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان کی حالت زار پر بین الاقوامی توجہ میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت کے ابتدائی اندازوں کے مطابق بارش اور سیلاب سے 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

متعدد حکام اور ماہرین نے ،جن میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوٹیریس بھی شامل ہیں، موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان میں غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب کا ذمہ دارقراردیا ہے۔انھوں نےرواں ہفتے کے اوائل میں دنیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس مہلک بحران سے گزرتے ہوئے ’’نیند میں چلنا‘‘بند کرے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل 9 ستمبر کو پاکستان میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں اقوام متحدہ اور پاکستان نے مشترکہ طور پر سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد کی مدد کے لیے 16 کروڑڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل کی تھی۔سیلاب سے 10 لاکھ سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہفتے کے روز اپنی تازہ رپورٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے مزید 57 اموات کی اطلاع دی ہے۔جون کے وسط میں مون سون کی بارشیں شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1265 ہوگئی ہے۔ ان میں 441 بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں