عمران خان کےسینیرفوجی قیادت سے متعلق’توہین آمیز،غیر ضروری‘ بیان پرفوج ’حیران‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے نئے آرمی چیف کےتقررکے حوالے سے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ فوج ادارے کی سینئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اورغیرضروری بیان پر حیران ہے۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے:’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب یہ ادارہ ہر روز پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانیں دے رہا ہے‘‘۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) کے تقرر پر سینیر سیاست دان کی جانب سے تنازعات پھیلانے کی کوشش انتہائی بدقسمتی کی بات اور مایوس کن ہے کیونکہ اس اعلیٰ عہدے پر تقرر کے طریق کار کی آئین میں اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے۔

اس میں مزیدکہا گیا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت کے پاس اپنی محبِ وطن اور پیشہ ورانہ اسناد کو کسی شک و شبہ سے بالاترثابت کرنے کے لیے کئی دہائیوں سے جاری بے عیب اور قابل قدر خدمات ہیں۔

بیان کے مطابق پاک فوج کی اعلیٰ قیادت پر سیاست کرنا اور سی او اے ایس کے انتخاب کے عمل کو اسکینڈلائز کرنا نہ تو ریاست پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ادارے کے مفاد میں ہے۔ پاک فوج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

یہ پیش رفت عمران خان کی جانب سے فیصل آباد میں ایک ریلی میں یہ الزام لگانے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز نئے انتخابات کی مخالفت کررہی ہیں کیونکہ وہ بدعنوانی کے مقدمات میں اپنی جلد بچانے کے لیے نومبر میں ’’اپنی پسند کا آرمی چیف مقرر کرنا چاہتی ہیں‘‘۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے قائدین اپنا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اگر ایک مضبوط اور محب وطن فوجی سربراہ مقررکیا جاتا ہے تو وہ ان سے لوٹی ہوئی دولت کے بارے میں پوچھے گا۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ وہ (حکومت میں) بیٹھے ہیں کیونکہ وہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے اپنی پسند کا ایک آرمی چیف لانا چاہتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف کو تو’’میرٹ پر مقرر کیا جانا چاہیے... جو بھی میرٹ لسٹ میں سب سے اوپر ہے،اسے ادارے کی سربراہی کے لیے مقرر کیا جانا چاہیے‘‘۔

2016ء میں مقررشدہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر کے آخری ہفتے میں ریٹائرہونے والے ہیں۔ آرمی چیف کا تقرر تین سال کے لیے ہوتا ہے لیکن جنرل باجوہ کی مدت میں 2019 میں تین سال کی توسیع دے دی گئی تھی۔

ردِّعمل

دریں اثنا پی ٹی آئی کی رہ نما شیریں مزاری آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز کا جواب دیتے ہوئے اسے’’غیر ضروری‘‘قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پریس ریلیز’’تشویش کا باعث ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ وضاحتوں کے باوجود عمران خان نے جو کچھ کہا، اسے غلط سمجھا گیا ہے‘‘۔

انسانی حقوق کے سابق وزیرکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سربراہ نے فیصل آباد میں اپنی تقریر میں فوج یا اس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔پی ٹی آئی کے اسد عمر نے کہا کہ عمران خان کے بیان کا سیاق و سباق پہلے ہی واضح کردیا گیا ہے۔ان کا عسکری ادارے یا اس کی اعلیٰ قیادت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا کبھی ارادہ نہیں تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ پارٹی اور اس کے سربراہ نے ہمیشہ فوجی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو’’مکمل طور پر سراہا‘‘ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرٹ کے اصول کو برقرار رکھنے پر زور اس فورس کی پیشہ ورانہ مہارت کے تحفظ کی خواہش سے مطابقت رکھتا ہے جو قوم کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

پی ٹی آئی کے نائب صدر فواد چودھری نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے آج اسلام آباد میں پہلے جو کچھ کہا تھا،اسے سن لیا ہوتا تو پریس ریلیز جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔اپنی پریس کانفرنس میں چودھری نے عمران کے تبصرے کی وضاحت اور دفاع کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے مخلوط حکومت اور اس کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا مطلب یہ تھا کہ اگلے چیف آف آرمی اسٹاف کے تقررکا فیصلہ حکومت پرنہیں چھوڑا جا سکتا کیونکہ اس میں ’’سیاسی قانونی حیثیت‘‘ کا فقدان ہے اورہم نے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے سیاست دانوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں جبکہ ہمیں فوج کی قیادت کی حب الوطنی میں کوئی شک ہے اور نہ کوئی شک ہوسکتا ہے‘‘۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر اتحادی رہنماؤں نے مسلح افواج کے خلاف ’زہریلے الزامات‘ لگانے اور نئے آرمی چیف کے تقررکا معاملہ داغدار کرنے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک ٹویٹ میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ عمران خان کی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے ذلت آمیز باتیں‘‘ہر روز نئی سطحوں کو چھو رہی ہیں۔اب وہ مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف براہ راست کیچڑ اچھالنے اور زہریلے الزامات میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ’’مذموم ایجنڈے‘‘کا مقصد پاکستان کودرہم برہم اور کمزور کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں