عمران خان کے’غیرتسلی بخش‘ جواب پرتوہین عدالت کیس میں فردِجُرم عایدکرنے کا فیصلہ

عدلیہ کی مجرمانہ توہین’انتہائی حساس معاملہ‘ہے،ضلعی عدالت ایک ’’سرخ لکیر‘ہے:چیف جسٹس اطہرمن اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے جمعرات کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چودھری کے خلاف متنازع کلمات اداکرنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان پر توہین عدالت کی کارروائی میں فردِ جُرم عایدکرنے کا فیصلہ کیا ہے اور عدالت میں ان کے جواب کو’’غیرتسلی بخش‘‘قراردیا ہے۔

یہ فیصلہ جمعرات کو چیف جسٹس،جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس محسن اخترکیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے جاری کیا ہے۔

اس میں کہاگیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف فردجرم میں الزامات دو ہفتے کے بعد عاید کیے جائیں گے۔جسٹس اطہر من اللہ نے مقدمے کی سماعت کے دوران میں ایک موقع پر کہا کہ عدالت کی مجرمانہ توہین’انتہائی حساس معاملہ‘ہے اورضلعی عدالت ایک ’سرخ لکیر‘ہے۔

آئی ایچ سی نے 20 اگست کو اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں ایک عوامی ریلی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چودھری کے خلاف عمران خان کے توہین آمیز اور دھمکی آمیز ریمارکس پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔خاتون جج نے بغاوت کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہ نما شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی تھی۔

فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد کمرۂ عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ وہ کارروائی کے دوران بات کرنا چاہتے تھے لیکن انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

بدھ کے روز سابق وزیراعظم نے عدالت کی جانب سے اپنے پہلے جواب کو’’غیرتسلی بخش‘‘قرار دینے کے بعد عدالت میں دوسرا جواب جمع کرایا تھا۔آج سماعت کے دوران میں آئی ایچ سی کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مشاہدہ کیا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے عدالت کے شوکاز نوٹس کے جوابات عدلیہ کی توہین کا ’’جواز‘‘ پیش کرتے نظرآتے ہیں اور انھوں نے اپنے بیان پر’’کسی ندامت یا افسوس‘‘ کااظہار نہیں کیا۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ جواز اور وضاحت دینے میں فرق ہے۔ میں یہاں وضاحت دے رہا ہوں۔اس پرجسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا:’’اگر یہ الفاظ سپریم کورٹ یاہائی کورٹ کے جج کے لیے استعمال کیے جاتے تو کیا آپ بھی یہی جواب جمع کراتے؟‘‘

انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ عمران خان یہ جواز دے رہے ہیں کہ شہبازگل کو پولیس کی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ہمیں بتائیں کیا فیصلے اب ریلیوں یا عدالتوں میں کیے جائیں گے۔

عمران خان کے وکیل نے اس پرکہا کہ تمام جج احترام کے مستحق ہیں۔اس کے بعد جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ضلعی عدالتوں کے جج ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں سے زیادہ اہم ہیں۔

حامدخان نے مؤقف اختیار کیا کہ اکثراوقات یہ معاملہ اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا سمجھا جاتا ہے۔اس پرجسٹس بابرستار نے وکیل سے پوچھا کہ کیا توہین عدالت ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی پر عوامی طور پر تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔

حامدخان نے جواب دیا کہ ہر شہری کو قانونی کارروائی شروع کرنے کا حق حاصل ہے۔نیزلفظ کارروائی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دھمکی دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہم عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ کسی کو دھمکی نہیں دی گئی۔

جسٹس بابرستار نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ عمران کے استعمال کردہ الفاظ ’’دھمکی آمیز‘‘ہیں۔تاہم عمران کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ کبھی عدلیہ کے خلاف نہیں رہے ہیں۔انھوں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے مہم بھی چلائی تھی۔

انھوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کا مقصد خاتون جج کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنا نہیں ہے۔ تاہم جسٹس ستار نے کہا کہ عمران اب بھی اپنی باتوں کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جواز اور وضاحت میں فرق ہے۔اس پرحامدخان نے مؤقف اختیار کیا کہ میں آپ کو یہی بتانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

اس پر جسٹس ستار نے پوچھا:’’کیا عمران خان منصفانہ ٹرائل چاہتے ہیں؟کیا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے یہ جواب پیش کیا ہے؟‘‘

عمران کے وکیل نے جواب دیا کہ ان کا موکل چاہتا ہے کہ توہین عدالت کا مقدمہ ختم کیا جائے۔اس پرجسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم بہت ’’جوکھم بھرا‘‘ موقف اختیارکررہے ہیں۔ انھوں نے باورکرایا کہ عدالت عظمیٰ نے بھی عمران کو توہین عدالت سے خبردار کیا تھا۔ اب آپ ایک بار پھر کَہ رہے ہیں کہ آپ مستقبل میں ایسا نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اب بھی عمران اپنے تبصرے کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ پی ایم ایل ن کے نہال ہاشمی کا معاملہ بھی موجودہ کیس جیسا ہے۔ نہال نے توکسی جج کا نام بھی نہیں لیا تھا۔

ماتحت عدلیہ کے وقار کا معاملہ

جسٹس اطہرمن اللہ نے ایک موقع پرریمارکس دیے کہ نچلی عدالتوں کے ججوں کو اعلیٰ عدالتوں سے مختلف کیوں سمجھا جاتا ہے۔انھوں نے وکیل کو مخاطب ہوکر کہا کہ آپ توہین عدالت کا جواز پیش کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ آپ کو کوئی ندامت یا افسوس نہیں ہے۔

جسٹس بابرستار نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عمران نے اپنے طرز عمل کے ذریعے کوئی ندامت ظاہر نہیں کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ تقریر اور توہین عدالت کیس کے بعد بھی جواز پیش کیے جا رہے ہیں۔

جسٹس ستار نے استفسار کیا کہ اگر پی ٹی آئی ان کے فیصلے سے خوش نہیں ہوئی تو کیس کی سماعت کرنے والے پانچ ججوں کے خلاف "کارروائی" کی دھمکی دے گی۔انھوں نے وکیل سے مخاطب ہوکرکہا کہ آپ یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عمران نے جو کچھ کہا وہ درست تھا اور دنیا نے اسے غلط سمجھا ہے؟

سماعت کے دوران حامد نے یہ بھی کہا کہ خاتون جج کو دھمکی دینا عمران کا مقصد نہیں ہے۔ عمران ہمیشہ خواتین کے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔جسٹس من اللہ نے کہا کہ یہ مقدمہ خواتین کے حقوق کے بارے میں نہیں بلکہ یہ ماتحت عدالت کی جج کے بارے میں ہے۔

ایک موقع پر جسٹس من اللہ نے تبصرہ کیا کہ انھیں اس بات کی پروانہیں ہے کہ عدالتوں یا ججوں کو سائیڈ لائن کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں یہ معاملہ مجرمانہ توہین کا ہے جس پر دنیا بھر میں نوٹس لیا جاتا ہے۔ہم بھی ایسا کریں گے، اس توہین سے عدلیہ پرعوام کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔جج نے یاد دلایا کہ عمران خان نے اپنے حامیوں سے عدالت کے باہر جمع ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم نے بار بار آپ سے کہا ہے کہ آپ سوچ سمجھ کرجواب جمع کرائیں۔

حامدخان نے اپنے دلائل ختم کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کو یقین دلاسکتے ہیں کہ عمران خان مستقبل میں زیادہ محتاط رہیں گے۔انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے شعلہ بیان رہ نما دانیال عزیز کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا جنھیں سپریم کورٹ نے 2018 میں توہین عدالت کے الزام میں سزا سنائی تھی۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سماعت پر آئی ایچ سی نے ہمیں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔عدالت نے دانیال عزیز اور طلال چودھری کے مقدمات کا بھی حوالہ دیا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا معاملہ دیگر دو مقدمات سے مختلف ہے۔

اس موقع پرجسٹس اطہر من اللہ نے تبصرہ کیا کہ توہین عدالت کے الزامات کی تین اقسام ہیں: عدالتی، دیوانی اور فوجداری۔یہ کیس مجرمانہ توہین کے دائرے میں نہیں آتا کیونکہ عمران خان نے عدالت کے کردار کے بارے میں بات کی تھی اور ایک ایسے معاملے پر تبصرہ کیا تھا جو عدالت کے زیرسماعت تھا۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے عدالت کو اسکینڈلائز کرنے کی کوشش میں توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔انھوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مجرمانہ توہین ایک جرم تھا جو "سنگین نوعیت" تھا۔اور مجرمانہ توہین کی صورت میں جہالت غیر متعلق ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو سمجھایا تھا کہ یہ (مجرمانہ توہین کا معاملہ) ہے۔ٹی آئی سربراہ کو جواب جمع کرانے سے پہلے سوچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم اظہار رائے کی آزادی کے محافظ ہیں لیکن اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ عدالت کی مجرمانہ توہین ’’انتہائی حساس معاملہ‘‘ہے اورضلعی عدالت ایک ’’سرخ لکیر‘‘ہے۔قانون نے ایک طریق کار کا خاکاپیش کیا ہے جب کوئی شخص عدالت کے فیصلے سے ناراض ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی عدالت کی اولین ترجیح ہے۔ عدالت نے عمران سے یہ بھی پوچھا کہ کیا انھوں نے آئی ایچ سی کو جمع کرائے گئے اپنے جواب میں اپنے اقدامات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا ایک سابق وزیر اعظم دفاع کے طور پر قانون سے لاعلمی کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے آج سماعت کے دوران میں اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے پاس عمران کی تقریر کی ٹرانسکرپٹ اور ویڈیو ریکارڈنگ ہے۔عمران خان نے بعد میں اپنی تقریروں میں بھی عمران نے خاتون جج کے خلاف یہی تبصرے کیے تھے۔ وہ سمجھتا ہیں کہ اگرعدالت عالیہ نے انھیں ایک بار معاف کردیا تو وہ باربارایسا ہی کریں گے۔انھوں نے یہ بھی نشان دہی کی کہ عمران خان نے حلف نامے کے ساتھ اپنا جواب جمع نہیں کرایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں