دنیاکو سیلاب متاثرین کی بحالی تک پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے: انتونیو گوتریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے پر سکھر پہنچ گئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف اوریو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سکھر پہنچ گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم اور انتونیو گوتریس کا سکھر ایئر پورٹ پر استقبال کیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو، احسن اقبال، مریم اورنگزیب بھی وزیر اعظم اور یو این سیکریٹری کے ہمراہ ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے سکھر ائیر پورٹ پر سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہ کاریاں ہوئیں۔ بارشوں اور سیلاب سے سندھ اور بلوچستان بہت متاثر ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے مختلف اضلاع اب بھی زیر آب ہیں۔سندھ میں سیلاب سے 537 افراد جاں بحق ہوئے۔ دریائے سندھ میں سیلاب سے فصلوں اور مویشیوں کو نقصان پہنچا۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد متاثرین کی بحالی کا کام جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سیلاب اور بارشوں سے نقصانات کا تخمینہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ سکھر اور خیرپور میں سیلابی پانی موجود، نکاسی آب کی کوشش کر رہے ہیں۔ سندھ میں رواں سال غیر معمولی بارشیں ہوئیں۔ سندھ میں رواں سال 1185ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب سے 3ملین ایکڑ زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ مویشیوں کو بیماری سے بچاؤ کے لیے مچھر دانیوں کی ضرورت ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے سندھ کے 24 اضلاع شدید متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا ہے کہ متاثرین کی بحالی بڑا چیلنج ہے، نکاسی آب تک انہیں واپس گھروں میں نہیں بھیجا جا سکتا۔ سندھ میں سیلاب سے مواصلاتی نظام کو نقصان اندازے سے زیادہ ہے۔ سیلاب سے رابطہ سڑکیں، ریلوے ٹریکس اور رابطہ پلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ جب تک بارش کا پانی نیچے نہیں جاتا ٹریکس کی بحالی ممکن نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹ رہا ہے، ہمیں عالمی برادری کی اشد ضرورت ہے ۔سیلاب متاثرین کی بحالی، مواصلاتی نظام کو دوبارہ ٹھیک کرنے کے لیے بڑی رقم کی ضرورت ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلابی صورتحال کی سنجیدگی کا احساس ہے۔ پاکستان میں سیلاب سے نقصانات کا فضائی جائزہ لیا، صورتحال دیکھ کر افسوس اور دکھ ہوا۔ پاکستان میں سیلاب متاثرین نے جانی ،مالی اور ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصانات کے ازالے کے لیے پاکستان کو بڑی رقم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امید ہے عالمی ممالک ان حالات میں پاکستان کا ساتھ نبھائیں گے۔ کوئی شک نہیں موسمیاتی تبدیلی بڑا چیلنج ہے، جس سے پاکستان نمٹ رہا ہے۔ قدرتی آفات سے مزاحمت نہیں کی جا سکتی مگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات ہو سکتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو شاید آئندہ کا نقصان اس سے بڑا ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری سے اپیل ہے وہ پاکستان کی اس مشکل میں مدد کریں اور آگے آئیں۔ دنیا کو سیلاب متاثرین کی بحالی تک پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے تمام ممالک کو ملکر نمٹنا ہو گا۔ دنیا میں مسلسل آنے والی قدرتی آفات کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سیلاب متاثرین سے ملاقات کریں گے۔ نقصانات اور امدادی کاروائیوں کے جائزہ لیں گے۔

وزیرِ اعظم اور سیکٹری جنرل اقوام متحدہ ضلع جعفر آباد بلوچستان کی تحصیل اوستہ محمد میں سیلاب متاثرین سے ملاقات کریں گے۔

بعد ازاں وزیرِ اعظم اور سیکرٹری جنرل لاڑکانہ جائیں گے جہاں پر انکی ملاقات لاڑکانہ اور اس کے گرد ونواح کے سیلاب متاثرہ علاقوں سے آئے لوگوں سے ہوگی۔یو این سیکریٹری جنرل سیلاب متاثرین، فرسٹ ریسپانس فورس ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف سے بھی ملاقات کریں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو شدید بارشوں سے قدیم تہذیب موئن جو داڑو کے آثاروں کو ہونے والے نقصانات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں