سوات میں ریموٹ کنٹرول دھماکا، امن کمیٹی کے رکن سمیت پانچ افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں بم دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔

کبل کے ایس ایچ او فیاض خان کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکا تھا جس میں امن کمیٹی کے رکن ادریس خان کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں ادریس خان اور 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جن کی لاشیں سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔فیاض خان نے کہا کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

ابتدائی طور پر دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

دھماکے کے فوری بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) سے رپورٹ طلب کر لی۔

وزیر اعلیٰ نے جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔’

امن کمیٹی کے اراکین کو کافی عرصے سے کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسند گروہوں کی طرف سے خطرہ تھا کیونکہ جنگ کے دوران ان لوگوں نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہوئے ان کی مخالفت کی تھی۔

سوات میں امن کمیٹی کا قیام اس وقت عمل میں لایا گیا تھا جب 2007 سے 2009 کے درمیان طالبان نے علاقے پر کنٹرول کر لیا تھا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی کے لوگ اپنے گاؤں اور یونین کونسلز کا دفاع کرنے کے لیے جنگجو طالبان کے خلاف میدان میں اترے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں