پاکستان کوروس سے پائپ لائن کے ذریعے گیس کی ترسیل ممکن،بنیادی ڈھانچاموجود ہے:پوتین

میاں شہبازشریف کا روسی صدرسے سمرقند میں دوطرفہ تعلقات ،علاقائی اور بین الاقوامی امورپرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کے صدرولادی میرپوتین نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائپ لائن کے ذریعے گیس کی ترسیل ممکن ہے اور اس ضمن میں ضروری بنیادی ڈھانچا پہلے ہی موجود ہے۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں کہی ہے۔

میاں محمد شہبازشریف اور روسی صدرولادی میر پوتین سے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی ہے۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امورپرتبادلہ خیال کیا۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے پاکستان اور روس کے فروغ پذیرتعلقات پراطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ امر دونوں ممالک کے درمیان مضبوط باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کا مظہر ہے۔

میاں شہبازشریف نے کہا کہ انھوں نے خوراک کی سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور سلامتی سمیت باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے اور مستحکم بنانے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں اسلام آباد میں بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) کا اگلا اجلاس جلد طلب کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

انھوں نے روس کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پرسیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے اظہاریک جہتی اور حمایت پر صدرپوتین کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی اس آفت کے تباہ کن اثرات پر تفصیل سےروشنی ڈالی۔

افغانستان میں روس کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پرامن اورمستحکم افغانستان پاکستان اور روس دونوں کے مفاد میں ہے۔انھوں نے جنگ زدہ ملک میں پائیدار امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی اقدمات کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پرزور دیا۔

مزید برآں انھوں نے افغانستان میں امن واستحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

قبل ازیں وزیراعظم آج دوروزہ سرکاری دورے پر سمرقند پہنچے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل (سی ایچ ایس) کے 22 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ ازبکستان کے وزیر اعظم عبداللہ اریپوف نے ہوائی اڈے پروزیراعظم شہبازشریف اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔انھوں نے اپنی آمد کے کچھ دیربعد خضر کمپلیکس کا دورہ کیا اور ازبکستان کے پہلے صدر اسلام کریموف کی قبر پرخراج عقیدت پیش کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں