پنجاب میں پہلی مرتبہ بلوچستان کی خاتون پولیس افسر ڈی پی او تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پنجاب میں پہلی مرتبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون پولیس افسر کو ڈسٹرکٹ پولیس افسر(ڈی پی او) کے طور پر تعینات کر دیا گیا جہاں پولیس میں خواتین کا مجموعی حصہ صرف 2.25 فیصد ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں پنجاب پولیس نے بتایا کہ 'نئی تعینات ہونے والی ڈسٹرکٹ پولیس افسر لیہ شازیہ سرور نے اپنے عہدہ کا چارج سنبھال لیا، شازیہ سرور کا تعلق بلوچستان کے ضلع بولان سے ہے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون افسر ہیں جنہیں پنجاب میں ڈی پی او تعینات کیا گیا ہے'۔


معاصر روزنامہ ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکومت پنجاب نے پسماندہ صوبے سے وفاقی سطح پر سول سروس میں شمولیت کرنے والوں کے لیے مثبت پیغام دیتے ہوئے ایس پی شازیہ سرور کو خالی آسامی پر لیہ کی ڈی پی او کے طور پر تعنیات کردیا ہے۔

ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ایس پی شازیہ سرور پنجاب میں ڈی پی او کے طور پر خدمات انجام دینے والی پانچویں خاتون پولیس افسر ہیں جبکہ بلوچستان کا ڈومیسائل رکھنے والی پہلی خاتون افسر ہیں۔

عہدیدارکا کہنا تھا کہ اس سے قبل پچھلے 4 برسوں میں ایس پی شائستہ رحمٰن ڈی پی او بھکر، ایس پی عمارہ اطہرڈی پی او بہاولنگر اور ڈی پی او سرگودھا، ایس پی ماریہ محمود ڈی پی ڈی پی او پاکپتن اور ایس پی ندا عمر ڈی پی او لیہ کے طور فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔

اسی طرح فیصل آباد سٹی پولیس افسر(سی پی او) عمر سعید ملک نے فرح بتول کو اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کے طور پر تعینات کیا تھا، فرح بتول ضلعے کی تاریخ میں ایس ایچ او کے طورپر خدمات انجام دینے والی پہلی خاتون پولیس افسر ہیں۔

عمرسعید ملک نے ڈان کو بتایا کہ گنجان آباد شہروں میں ایک میں تھانوں میں شکایات لے کر آنے والی خواتین کی تعداد میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے جہاں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں شہر میں خواتین ایس ایچ اوز کی تعداد میں اضافے کی تجویز بھی ہے۔

ایک اہم تبدیلی

سرکاری ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کی پالیسی میں بڑی تبدیلی آئی ہے کیونکہ موجودہ آئی جی پی فیصل شاہکار نے مرد افسران کا غلبہ کم کرنے کے لیے تمام رینکس میں خواتین پولیس افسران کی نمائندگی میں اضافے کے لیے سلسلہ وار اجلاس کیے ہیں۔

ابتدائی طورپرانہیں اس فیصلے پر مردوں کے زیر اثرمحکموں سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جہاں چند سینئر پولیس افسران نے پالیسی کی کھل کر مخالفت کی، ان پولیس افسران کی رائے تھی کہ فیلڈ پوسٹنگ میں خواتین کی حمایت نہ کی جائے۔

ان کا خیال تھا کہ خواتین کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے وجہ سے وہ پولیس فورس کی کمان سنبھال نہیں سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے سربراہ کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ خواتین پولیس افسران کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں تو وہ انہیں فیلڈ کے بجائے انتظامی امور میں تعینات کر سکتے ہیں۔

تاہم آئی جی پی فیصل شاہکار نے اس طرح کے مشورے مسترد کرتے ہوئے فیلڈ پولیس افسران کو ہدایت جاری کی کہ متعلقہ ضلع اور ریجن میں خواتین پولیس افسران کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

حکام کا کہنا تھا کہ پولیس چیف نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں میں قائم خواتین پولیس کونسل کا کردار بھی بہتر بنایا، اس کے علاوہ پنجاب پولیس ایگزیکٹو بورڈ میں 2 سینئر خواتین افسران کو بھی شامل کیا گیا، اس عمل سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خواتین اور مردوں میں یکساں معیار کی پالیسی کے فیصلے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

حال ہی میں آئی جی پی نے ڈپٹی پولیس افسر کے 3 عہدوں کے لیے 3 خواتین پولیس افسروں کے نام وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کوتجویز کیے تھے، ان خواتین پولیس افسروں میں شازیہ سرور، عمارہ اطہر اور شازیہ ندیم شامل ہیں۔

بعد ازاں ان افسران کو انٹرویو کے لیے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں بلایا گیا جہاں آئی جی پی فیصل شاہکار بھی موجود تھے، وزیراعلیٰ نے ایس پی شازیہ سرور کو لیہ کی ڈی پی او تعینات کرنے کی منظوری دی۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی پولیس کی سربراہی کے لیے مزید خواتین پولیس افسران کی تقرری کا عمل جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں