.

وزیراعظم محمد شہبازشریف اور ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی کی ملاقات

دونوں ممالک کے درمیان عوام کی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم اور وسیع کرنے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم محمد شہبازشریف اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، توانائی، رابطہ، ثقافتی اور عوام کی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم اور وسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق رائے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے موقع پر دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے 15 ستمبر 2022 کو سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ اپنی گرمجوش اور خوشگوار ملاقات کا حوالہ دیا۔

ایران تعلقات کو فروغ دینے کے اپنے عزم کو دہرایا۔ وزیراعظم نے تباہ کن سیلاب کے تناظر میں پاکستانی قوم کے ساتھ یکجہتی اور حمایت پر ایران کے صدر اور ایرانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، توانائی، رابطہ، ثقافتی اور عوام کی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم اور وسیع کرنے پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی منصفانہ جدوجہد کے لئے ایران کے سپریم لیڈر کی مضبوط اور ثابت قدمی سے حمایت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وزیر اعظم نے ایران کے صدر کو جلد دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

فرانسیسی صدر سے ملاقات

ادھر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے موقع پر فرانس کے صدر عمانویل میکرون سے بھی ملاقات کی۔

عمانویل مکیروں اور پاکستانی وزیر اعظم کے درمیان ملاقات: تصویر بشکریہ پی آئی ڈی
عمانویل مکیروں اور پاکستانی وزیر اعظم کے درمیان ملاقات: تصویر بشکریہ پی آئی ڈی

منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر بھی موجود تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں