.

ماہ جولائی کے بعد ڈالرایک بار پھر سے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

ڈالر انٹربینک میں ٹریڈنگ کے دوران 240 روپے کی قیمت پر فروخت ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ آج انٹربینک مارکیٹ میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید 1.09 روپے گر کر اب تک کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔

اس سے قبل 28 جولائی کو ڈالر239 روپے 94 پیسے کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف قرض کی منظوری کے وقت ڈالر 220 روپے پر فروخت ہو رہا تھا، قرض کی منظوری سے اب تک انٹربینک میں ڈالر 18 روپے سے بھی زائد مہنگا ہو چکا ہے۔

درآمدی بل میں کمی

گزشتہ ماہ پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدی بل جولائی میں 12.81 فی صد کم ہوکر 4.86 ارب ڈالر رہ گیا جبکہ گذشتہ سال اسی ماہ میں درآمدی بل کا حجم 5.57 ارب ڈالر تھا۔ ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر درآمدی بل میں 38.31 فی صد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

صرف جون میں درآمدی بل گذشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 7.74 ارب ڈالر تک بڑھ گیا اور 23.26 فی صدکے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔جون 2021ء میں درآمدی بل کی مالیت 6۰28 ارب ڈالر تھی۔

مالی سال 2021-22 کے دوران میں درآمدی بل 43.45 فی صد اضافے کے ساتھ 80.51 ارب ڈالر ہو گیا تھا۔ایک سال قبل یہ بل56.12 ارب ڈالر تھا۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ جولائی میں 18.33 فی صد کم ہو کر 2.64 ارب ڈالر رہ گیا۔اس کے مقابلے میں گذشتہ سال اسی ماہ میں 3.23 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا تھا۔ تجارتی خسارے میں ماہ بہ ماہ کمی 46.76 فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔

مالی سال 22 میں تجارتی خسارہ 48.66 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔یہ ایک سال قبل 30.96 ارب ڈالر تھا اوریہ توقع سے زیادہ درآمدات میں 57 فی صد اضافے کا عکاس ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں