.

پاکستان سے باہر اور ملک آنے والوں کے لیے کرنسی اور ممنوع اشیا ڈکلیئر کرنا لازمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی حکومت نے پاکستان سے بیرون ممالک جانے اور پاکستان آنے والے مسافروں کے لیے بتدریج 5 ہزار اور 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی کرنسی اور دیگر ممنوعہ سامان رکھنے پر کسٹمز ڈکلیئریشن لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے کسٹمز رولز میں ترامیم کی جا رہی ہیں۔ متعلقہ دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے کسٹمز رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار کرکے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے آرا کے لیے بھجوا دیا ہے۔ اسٹیک ہولڈرز مجوزہ مسودے سے متعلق 7 دن کے اندر اپنی آرا، اعتراضات وتجاویز دے سکتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق مقررہ میعاد کے بعد موصول ہونے والی تجاویز کو منظور نہیں کیا جائے گا اور گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ترامیمی رولز لاگو کر دیے جائیں گے۔

ایف بی آر نے مجوزہ ترامیمی رولز میں پاکستان آنے والے اور پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے مسافروں کے لیے کسٹمز ڈکلیئریشن فارم کا مسودہ بھی ساتھ منسلک کیا ہے۔

دستاویز میں درج ہے کہ پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے مسافروں کو اپنے پاس موجود 5 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی کرنسی یا دیگر ممنوع اشیا کے بارے میں کسٹمز ڈکلیئریشن جمع کروانا ہو گا۔

یہ کسٹمز ڈکلیئریشن بیرون ملک روانگی سے قبل آن لائن بھی جمع کروایا جا سکے گا یا پھر روانگی کے موقع پر ائرپورٹ پر دستہ جمع کروانا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں