.

نسیم اشرف کی سربراہی میں پاکستانی وفد کا دورہ اسرائیل، صہیونی حکام سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سیاحتی گروپ کے گروپ کے رہنما نے کہا ہے کہ پاکستانی سابق حکومت کے ایک وزیر نے وفد کے ساتھ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات کی ہے۔

وفد میں ’’ بین المذاہب مکالمے‘‘ کو فروغ دینے والی پاکستانی تظنیم کے نمائندے شامل تھے۔ یہ غیر سرکاری تنظیم سابق امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے ابراہم معاہدہ کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔

ابراہم معاہدے نے چار عرب ملکوں امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار کی تھی۔

پاکستان کے سابق وزیر مملکت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نسیم اشرف نے کہا فون پر ایسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے ایک وفد کے ساتھ مقبوضہ بیت المقدس موجود ہیں۔

پاکستانی وفد کی سربراہی کرنے والے نسیم اشرف نے وفد کے دیگر ارکان سے متعلق تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔

واضح رہے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ نسیم اشرف 2006 سے 2008 تک پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہے ہیں۔ وہ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں اور 6 سال وزیر مملکت بھی رہے ہیں۔

انہیں 2007 میں ستارہ امتیاز بھی دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں