.

’’قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئےعالمی برادری کو یکجا ہونا پڑے گا‘‘

عالمی حدت کے تباہ کن اثرات نے پاکستان میں زندگی ہمیشہ کےلئے بدل کررکھ دی : وزیر اعظم کا یو این میں خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم شہباز شریف نے دنیا کو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک تہائی پاکستان ڈوبا ہوا ہے۔ عالمی حدت کے تباہ کن اثرات نے پاکستان میں زندگی کو ہمیشہ کےلئے تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کے عوام عالمی حدت کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ قومی سلامتی کی تعریف اب بدل گئی ہے۔ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کےلئے عالمی برادری کو یکجا ہونا پڑے گا اور مستقبل کی حکمت عملی وضع کرنے کےلئے مل کر بیٹھنا ہوگا ورنہ جنگوں کےلئے کوئی میدان باقی نہیں رہے گا۔

بھارت نے مظلوم کشمیری عوام کا حق غصب کرنےکےلئے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بنادیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کے حل تک کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، تنازعات کو پرامن مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنے وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیرا عظم نے اپنی تقریر کا آغاز قرآن پاک کی آیات سے کیا ۔ محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جب میں اپنے ملک پاکستان کا احوال سنانے کے لئے یہاں کھڑا ہوں لیکن میرا دل و دماغ اس وقت بھی میرے ملک میں ہے ،ہم جس صدمے سے گزر رہے ہیں ، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں موسمیاتی آفت سے آنے والی تباہی کے بارے میں دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے یہاں آیا ہوں جس سے میرے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف یو این میں خطاب کر رہے ہیں: فوٹو @epwing_official

وزیراعظم نے کہا کہ 40 دن اور 40 راتوں تک ایک تباہ کن سیلاب ہم پر مسلط رہا جس نے صدیوں کا موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیا ہے، آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، خواتین اور بچوں سمیت 33 ملین افراد اب صحت کے خطرات سے دوچار ہیں جن میں ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث1500 سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 400 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں، بہت سے بیماری اور غذائی قلت کے خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا،370 پل تباہ ، 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ابتدائی تخمینے بتاتے ہیں کہ سیلاب کے باعث 13 ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔ چار ملین ایکڑ فصلیں بہہ گئیں۔ لاکھوں بے گھر افراد اب بھی اپنے خاندانوں، مستقبل اور ان کے ذریعہ معاش کو پہنچنے والے نقصانات کے ساتھ اپنے خیمے لگانے کے لئے خشک زمین کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پاکستان متاثر ہورہا ہے،پاکستان میں اس طرح کی قدرتی آفت کو نہیں دیکھا ،ہمیں پہلے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور اب سیلاب کا سامنا ہے حالانکہ دنیا میں جو کاربن فضا میں بھیجی جارہی ہے ، پاکستان کا اس میں ایک فیصد سے بھی کم ہے ، ہمیں جن مساہل کا سامنا ہے اس کی وجہ ہم نہیں ہیں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ کے اثرات کی اس سے بڑی اور تباہ کن مثال کبھی نہیں دیکھی جہاں زندگی ہمیشہ کے لئے بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آفت کے دوران میں نے اپنے تباہ حال ملک کے ہر کونے کا دورہ کیا اور وقت گزارا، پاکستان میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟، ناقابل تردید اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آفت ہماری وجہ سے نہیں آئی بلکہ ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور گرمی کی لہر 53 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکی ہے جو اسے کرہ ارض کا گرم ترین مقام بنا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم تباہ کن مون سون سے گزر رہے ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے انتہائی مناسب طریقے سے بیان کیا ہے، ایک بات بہت واضح ہے کہ جو کچھ پاکستان میں رونما ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی قوم کی طرف سے مشکل وقت میں مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پاکستان کے دورے پر شکر گزار ہوں، سیکرٹری جنرل نے اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈ کا حصہ بھی ریسکیو اور ریلیف کے کاموں پر خرچ کر رہے ہیں ،سیلاب متاثرین میں 70 ارب کی رقم تقسیم کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں