وزیراعظم اوران کے رفقاء کے مزید مبیّنہ آڈیو کلپس؛ ریکارڈ اورتشہیر کا ذمہ دارکون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

وزیراعظم پاکستان شہبازشریف،ان کے بعض وزراء اورحکمران اتحاد کے رہنماؤں کے مزید مبیّنہ آڈیو کلپس اتوار کے روزمنظرعام پرآئے ہیں۔ان سے وزیراعظم ہاؤس کی جامع سکیورٹی سے متعلق نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں اورہرکوئی مشوش ہے اور یہ جاننے کی کوشش کررہا ہے کہ ارباب اقتدار کی ٹیلی فون پرہونے والی گفتگو کون ریکارڈ کرکے پھیلا رہا ہے۔

ایک روز قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف اور ایک سرکاری عہدہ دار کے درمیان مبیّنہ گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چودھری نے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے دو منٹ سے زیادہ اس آڈیوکلپ میں ایک آواز سنائی دے رہی ہے۔اس میں یہ کہا گیا ہے مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا تھا کہ وہ اپنے داماد راحیل کو بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری درآمد کرنے میں سہولت فراہم کریں۔

اتوار کو مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے مزید آڈیو کلپ سامنے آئے ہیں۔پہلے کلپ میں مبیّنہ طور پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور وزیر اعظم کے درمیان وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے بارے میں گفتگو سنی جاسکتی ہے۔وزیرخزانہ کو مبیّنہ طور پر سخت معاشی اقدامات کرنے پران کی اپنی جماعت کے اندر سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ وہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے سے متفق نہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کے فیصلوں کو قبول نہیں کرتی ہیں، خواہ ان کی پارٹی اقتدارمیں رہے یا نہ رہے۔

مبیّنہ کلپ میں مریم کی کہتی ہیں:’’وہ (مفتاح اسماعیل) ذمہ داری نہیں لیتا(...) ٹی وی پرعجیب وغریب باتیں کہتا ہے جس کی وجہ سے لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں (...) وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘‘آواز۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کی وطن واپسی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’’انکل، وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں‘‘۔

سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارآیندہ ہفتے وطن واپس آئیں گے تاکہ وزیراعظم شہباز شریف کا معاشی محاذ پر ہاتھ نمٹا سکیں۔

دوسرا کلپ مبیّنہ طور پر وزیراعظم، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم تارڑ، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے درمیان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کے بارے میں گفتگو سے متعلق ہے۔

تیسرے کلپ میں مبینہ طور پر سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کی وطن واپسی کے حوالے سے مریم نوازاوروزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کو دکھایا گیا ہے۔

سابق فوجی حکمران کے اہل خانہ نے جون میں عوامی طور پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ ’’ایک مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں‘‘جہاں صحت یابی ممکن نہیں ہے جبکہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ پرویز مشرف کا خاندان ان کی منصوبہ بند واپسی کے سلسلے میں فوج سے رابطے میں ہے۔

اس کلپ میں مبیّنہ طور پر مریم نواز کی آواز کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ ’’یہ آتے ہوئے دیکھ رہی ہیں‘‘۔ انھوں نے ایک فون کال میں نوازشریف سے بھی یہی بات کہی تھی۔میں نے ان سے کہا کہ وہ یہ ٹویٹ کریں‘‘۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوری طور پر میری بات سنی،مگراس اقدام کی کئی لوگوں نے 'مخالفت' کی تھی۔ انھوں نے مبیّنہ طور پر اس بات کی وجوہات بیان کی ہیں کہ اس صورت حال میں ’’فیاضی‘‘ کا مظاہرہ کرنے سے حکومت کو چہرہ بچانے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ جون میں میجرجنرل بابرافتخار کا بیان نشر ہونے کے چند گھنٹے کے بعد نواز شریف نے ٹویٹ کیا تھا کہ’’پرویز مشرف سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ کسی اور کو اس صدمے کا سامنا کرنا پڑے جو مجھے برداشت کرنا پڑا ہے‘‘۔


حکومت معاملہ سنجیدگی سے لے رہی ہے

دریں اثنا، مسلم لیگ (ن) کے رہ نما طلال چودھری نے کہا کہ حکومت اس آڈیو لیکس کے معاملے کو’’بہت سنجیدگی‘‘سے لے رہی ہے اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

فیصل آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے سرکاری ٹیلی فونک گفتگو اور خط و کتابت کی رازداری کی خلاف ورزی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ’’یہاں تک کہ وزیراعظم ہاؤس بھی محفوظ نہیں۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی سلامتی کے تمام اجلاسوں کی تفصیل بین الاقوامی سطح پر لیک ہو جائیں گی؟‘‘

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے لیک کے پیچھے موجود عناصر کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی’’یہ سب کون کررہا ہے؟‘‘وزیراعظم ہاؤس کو کون نشانہ بنا رہا ہے؟ کیا یہ وہی عناصر ہیں جو عمران خان کو اقتدار میں لائے تھے؟

انھوں نے کہا کہ یہ لیکس پی ٹی آئی کے سربراہ کے لیے بھی شرم کی بات ہے، ہماری نجی بات چیت بھی حقیقت میں شفاف ہے اور اس میں میرٹ پر بات ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اپنی پریس کانفرنس میں کسی بھی موقع پر آڈیو کی صداقت پر سوال نہیں اٹھایا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب تک کسی بھی وزیر نے لیک پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

تاہم مسلم لیگ (ن) نے لیک ہونے والی آڈیو میں گرڈ اسٹیشن کے حوالے سے لگائے گئے الزامات پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس کی تنصیب کا حکم 2020 میں پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران میں عدالت عالیہ لاہور نے دیا تھا۔

'سخت کارروائی' کا مطالبہ

بعد ازاں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ملتان میں ایک پریس کانفرنس میں آڈیو لیکس کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ معاملہ ’انتہائی تشویش ناک‘ ہے اس کے ذمے داروں کے خلاف 'سخت کارروائی' کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو کالز سامنے آرہی ہیں لہٰذا میں وزیراعظم پر زور دوں گا کہ وہ سخت کارروائی کریں اور تحقیقات کریں کہ گفتگو کس نے ہیک کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں