مسلم لیگ (ن) کے رہنمااسحاق ڈارپانچ سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد وطن لوٹ آئے

مفتاح اسماعیل کی جگہ وزیرخزانہ ہوں گے،نوازشریف نے کھوئے’سیاسی اثاثہ‘کی واپسی کی ذمہ داری سونپ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیر رہ نما اسحاق ڈار قریباً پانچ سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد پیر کی شب وطن لوٹ آئے ہیں۔

سابق وفاقی وزیرخزانہ راول پنڈی کے علاقے چکلالہ میں واقع نورخان ایئربیس پراترے ہیں۔ وہ لندن سے وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ طیارے پر وطن واپس آئے ہیں۔

ائیر بیس پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف اور وزیراعظم نے انھیں وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا ہے۔میں تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ ہم ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کی کوشش کریں گے جس میں وہ پھنس کررہ گیا ہے،بالکل اسی طرح جس طرح ہم نے 1998-1999 اور 2013-2014 میں کیا تھا‘‘۔

انھوں نے امیدظاہر کی کہ ’’اب ہم مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے‘‘۔ان کی وطن واپسی کے حوالے سے گذشتہ کئی ماہ سے قیاس آرائیاں جاری تھیں اور مسلم لیگ (ن) کے بعض سرکردہ ارکان مریم نواز اور میاں جاوید لطیف وغیرہ نے کئی مواقع پرسابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پالیسیوں پرکھلے عام تنقید کی تھی۔

بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق حکومت کی جانب سے متعارف کردہ مہنگے ایندھن پرسبسڈی (زرتلافی)کو ناگزیر طور پر تبدیل کرنے پر انھیں کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا۔اس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آگیا ہے اورعام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔اسحاق ڈار نے بھی مفتاح اسماعیل کے فیصلوں کو کھلے عام چیلنج کیا تھا اور گذشتہ مہینوں میں ان کی فیصلہ سازی کو کمزور قراردیا تھا۔

گذشتہ ہفتے احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیے تھے اور اس طرح ان کی لندن سے اسلام آباد واپسی کی راہ ہموار کردی تھی۔

یادرہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مفرور ہونے کے بعد 11 دسمبر 2017 کو دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔اس وارنٹ کو 7 اکتوبر تک معطل کردیا گیا تھا۔اس سے نومنتخب سینیٹر کو قانون کے روبرو خود کو پیش کرنے کے لیے پندرہ دن کا وقت مل گیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلے سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ اسحاق ڈار پریشان حال مفتاح اسماعیل کی جگہ لیں گے اور وہ وزیرخزانہ کا عہدہ سنبھالنے کے لیے جلد وطن واپس آرہے ہیں۔

تاہم اس بات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب اتوارکی شب مفتاح اسماعیل نے لندن میں جماعت کے سینئر رہنماؤں کو اپنا استعفا پیش کیا۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ نواز شریف اور وزیر اعظم شہبازشریف نے اسحاق ڈار کو نیا وزیرخزانہ نامزد کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اس اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ پارٹی ’’اپناسیاسی سرمایہ کھوچکی ہے‘‘اوراسحاق ڈار کو اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کام کرناہوگا۔ان سے اب وفاق میں حکمران جماعت کی جانب سے یہ بھی توقع کی جائے گی کہ وہ اگلے انتخابات سے قبل حکومت کے مجوزہ عوامی ترقیاتی منصوبوں پراخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا کریں۔

ان کے بہ طور وزیرخزانہ سابق دورمیں ان کی قابل اعتراض شرح مبادلہ کی پالیسی کو وسیع پیمانے پرایک ایسے سبب کے طورپردیکھا جاتا ہے جس کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے پاس ایک اور بیل آؤٹ پروگرام کے لیے واپس جانا پڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں