سینیٹر اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر اسحاق ڈار نے وفاقی وزیرخزانہ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

اسحاق ڈار کی تقریب حلف برداری ایوان صدر میں منعقد کی گئی جہاں صدر مملکت عارف علوی نے ان سے وزیرخزانہ کے عہدے کا حلف لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ اسحاق ڈارنے گزشتہ روز سینیٹر کا حلف اٹھایا تھا ۔ ان کی سینیٹ آمد کے موقع پر اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریک انصاف نے شدید احتجاج کیا تھا۔

خودساختہ جلاوطنی کے بعد واپسی

اسحاق ڈار قریباً پانچ سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد پیر کی شب وطن واپس لوٹ آئے تھے۔

سابق وفاقی وزیرخزانہ راول پنڈی کے علاقے چکلالہ میں واقع نورخان ایئربیس پراترے ۔ وہ لندن سے وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ طیارے پر وطن واپس آئے تھے۔

اسحاق ڈار کی واپسی کے مناظر
اسحاق ڈار کی واپسی کے مناظر

ائیر بیس پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف اور وزیراعظم نے انھیں وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا ہے۔میں تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ ہم ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کی کوشش کریں گے جس میں وہ پھنس کررہ گیا ہے،بالکل اسی طرح جس طرح ہم نے 1998-1999 اور 2013-2014 میں کیا تھا‘‘۔

انھوں نے امیدظاہر کی کہ ’’اب ہم مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے‘‘۔ان کی وطن واپسی کے حوالے سے گذشتہ کئی ماہ سے قیاس آرائیاں جاری تھیں اور مسلم لیگ (ن) کے بعض سرکردہ ارکان مریم نواز اور میاں جاوید لطیف وغیرہ نے کئی مواقع پرسابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پالیسیوں پرکھلے عام تنقید کی تھی۔

بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق حکومت کی جانب سے متعارف کردہ مہنگے ایندھن پرسبسڈی (زرتلافی)کو ناگزیر طور پر تبدیل کرنے پر انھیں کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا۔اس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آگیا ہے اورعام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔اسحاق ڈار نے بھی مفتاح اسماعیل کے فیصلوں کو کھلے عام چیلنج کیا تھا اور گذشتہ مہینوں میں ان کی فیصلہ سازی کو کمزور قراردیا تھا۔

گذشتہ ہفتے احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیے تھے اور اس طرح ان کی لندن سے اسلام آباد واپسی کی راہ ہموار کردی تھی۔

یادرہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مفرور ہونے کے بعد 11 دسمبر 2017 کو دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔اس وارنٹ کو 7 اکتوبر تک معطل کردیا گیا تھا۔اس سے نومنتخب سینیٹر کو قانون کے روبرو خود کو پیش کرنے کے لیے پندرہ دن کا وقت مل گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں