سابق وزیراعظم عمران خان کے اسلام آباد میں وارنٹ گرفتاری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے 20 اگست کے جلسے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چودھری سے متعلق ریمارکس پروارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے ہیں۔

30ستمبر کے وارنٹ گرفتاری عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں حلف نامہ جمع کرانے کے چند گھنٹے کے بعد سامنے آئے ہیں۔اس میں انھوں نے کہا تھا کہ’’انھیں احساس ہوا ہے کہ انھوں نے جج چودھری پرتنقید کرتے ہوئے 'ایک حد پار کر لی ہے' اور اگر انھیں یہ تاثر ملتا ہے کہ انھوں نے ایک حد پار کی ہے تو وہ اس پران سے معافی مانگنے کو تیار ہیں‘‘۔

اسلام آباد پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری کو معمول کے قانونی عمل کا حصہ قراردیا ہے اور ٹویٹر پرجاری کردہ ایک بیان میں شہریوں پرزوردیا ہے کہ وہ افواہوں پرکان نہیں دھریں۔

عدالت نے 22 ستمبر کو سماعت کے دوران میں حلف نامہ طلب کیا تھا، جب عمران خان نے خاتون جج زیباچودھری سے معافی مانگنے کی پیش کش کی تھی۔انھوں نے غداری کیس میں گرفتار اپنے قریبی ساتھی شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد جج زیباچودھری کو بھرے جلسے میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور انھوں نے اس جج کے ساتھ ساتھ عدلیہ کو بھی اپنی پارٹی کے تئیں متعصبانہ رویے پر سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا۔لیکن عدالت عالیہ اسلام آباد میں عمران خان معافی مانگنے کی پیش کش سے اپنے خلاف فرد جرم عاید ہونے سے بچ گئے تھے۔

عمران خان نے ہفتے کے روز عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے حلف نامے میں کہا کہ انھیں معزز عدالت کے سامنے توہین عدالت کی کارروائی کے دوران میں احساس ہوا تھا کہ انھوں نے 20 اگست 2022 کو عوامی تقریر کرتے ہوئے سرخ لکیر عبور کی ہوگی۔ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ان کا کبھی جج چودھری کو دھمکی دینے کا ارادہ نہیں تھا اور’’اس بیان کے پیچھے قانونی کارروائی کے علاوہ کوئی اور کارروائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ جج زیبا چودھری کے سامنے وضاحت کرنے کوتیار ہیں کہ نہ تو وہ اور نہ ہی ان کی جماعت ان کے خلاف کوئی کارروائی چاہتی ہے اور اگرانھیں یہ تاثر ملتا ہے کہ عمران خان نے ایک حد پار کی ہے تو وہ ان سے معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مستقبل میں ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے کسی عدالت اور عدلیہ بالخصوص ماتحت عدلیہ کے وقار کو ٹھیس پہنچے۔

انھوں نے اس بات پر بھی آمادگی کا اظہارکیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ فاضل عدالت کے اطمینان کے لیے جو بھی ضروری اور مناسب اقدام تجویزکرے گی کہ وہ کبھی کسی عدالت کے عمل میں مداخلت کرنے یا عدلیہ کے وقار یا آزادی کو مجروح کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تووہ ایسا کرنے کو تیار ہیں۔عمران خان نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ حلف نامے میں لکھے اپنے بیان پر ہمیشہ قائم رہیں گے۔

توہین عدالت کی کارروائی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 22 اگست کو گل کے پولیس ریمانڈ کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔عدالت نے عمران خان کو 31 اگست کو طلب کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

سماعت سے ایک روز قبل سابق وزیراعظم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا تھا جس میں انھوں نے جج زیباچودھری کے بارے میں اپنے الفاظ کو 'نامناسب' قرار دیتے ہوئے واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں استدعا کی تھی کہ جن ججوں نے ان کے خلاف مقدمہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے وہ خود کو بینچ سے الگ کرنے پر غور کریں کیونکہ ان کے مطابق انھوں نے اس معاملے کو پہلے سے طے کر لیا ہے۔

تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے جواب کو 'غیر تسلی بخش' قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ سے کہا تھا کہ وہ 'سوچ سمجھ کر' جواب جمع کرائیں۔اس کے بعد عمران خان نے عدالت میں ایک اور جواب جمع کرایا تھا۔ نظرثانی شدہ جواب میں عمران خان نے غیر مشروط معافی مانگنے سے گریزکیا تھا۔

آٹھ ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ان پر فرد جرم عاید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم 22 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں جب یہ توقع کی جارہی تھی کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کے خلاف فرد جرم عاید کی جائے گی تو عمران خان نے جج چودھری سے معافی مانگنے کی پیش کش کی تھی اور فرد جرم سے بچ گئے تھے۔

عدالت میں ان کے بیان کے بعد معاملے کی سماعت کرنے والی بڑی بینچ نے کہا تھا:’’ہم بادی النظر میں مدعا علیہ کے ذریعے معافی مانگنے سے مطمئن ہیں۔ اگلی تاریخ طے ہونے سے پہلے انھیں اس عدالت کے غوروخوض کے لیے ایک حلف نامہ داخل کرنا ہوگا‘‘۔

آج حلف نامہ جمع کرانے سے قبل عمران خان جمعہ کو اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پیش ہوئے اور جج زیباچودھری سے ذاتی طور پر معافی مانگی لیکن خاتون جج کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے ان کی معافی کا معاملہ لٹک گیا۔ان کی غیر موجودگی میں عمران خان نے عدالت کے ریڈرچودھری یاسر ایاز کو ان کے لیے ایک پیغام دیاتھا۔پی ٹی آئی کی جانب سے ٹویٹر پر شیئر کی گئی ویڈیو میں انھیں عدالتی ریڈر سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چودھری سے معافی مانگنے آیا ہوں‘۔

انھوں نے کہا کہ آپ میڈم زیباچودھری کوبتادیجیے کہ ’’عمران خان یہاں آئے تھے اور اگر ان کے الفاظ سے ان(جج صاحبہ) کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معافی مانگنا چاہتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں