ایران میں جاری پرتشدد احتجاج کے بعد پاک ،ایران سرحد کی عارضی بندش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں تین ہفتے سے جاری احتجاج کی لہر پاکستان سے متصل صوبہ سیستان، بلوچستان تک پہنچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے سرحدی شہر زاہدان میں اتوار کے روز کشیدگی کے بعد پاک ،ایران سرحد عارضی طور پر بند کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسافروں کو پاکستان سے ایران کے سرحدی علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے جب کہ ایران سے مسافروں کی پاکستان میں آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

دریں اثناء ناروے میں قائم غیرسرکاری تنظیم ’ایران ہیومن رائٹس‘ (آئی ایچ آر) نے بتایا کہ ایران کی سکیورٹی فورسز نے صوبہ سیستان، بلوچستان کے شہر زاہدان میں ہونے والی جھڑپوں میں 41 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آئی ایچ آر نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر الزام لگایا کہ وہ زاہدان میں نماز جمعہ کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے کو ’خون ریزی کے ذریعے دبانے‘ کی کوشش کررہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ ہنگامے صوبہ سیستان بلوچستان صوبے کے ساحلی شہرچاہ بہار کے ایک پولیس سربراہ کی 15 سالہ لڑکی کی مبیّنہ عصمت ریزی پر پھوٹ پڑے تھے اور لوگ اپنے غیظ وغضب کے اظہارکے لیے سڑکوں پرنکل آئے تھے۔پھر ان مظاہروں نے تشدد کا رُخ اختیار کر لیا تھا۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں افراد کی شناخت کی تصدیق علاقائی این جی او ’بلوچ کارکنان مہم‘ (بی اے سی) نے کی ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات میں پاسداران انقلاب کے پانچ اہلکار مارے گئے ہیں۔سرکاری میڈیا ان واقعات کو ’دہشت گردی‘ قرار دے رہا ہے۔

سیستان بلوچستان میں بلوچ نسل کی اکثریت آباداور یہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے متصل ہے۔

واضح رہے کہ 16 ستمبرکو تہران میں ایران کی مذہبی پولیس ’گشت ارشاد‘ کی تحویل میں ایک بائیس سالہ لڑکی مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران حکومت مخالف مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں پُرتشدد مظاہروں میں اب تک ایک سو تیس افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں