جج دھمکی کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد ضلعی عدالت کی خاتون جج کو دھمکی کے مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روکتے ہوئے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عبوری ضمانت منظور کی۔ عدالت نے عمران خان کی 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے جج دھمکی کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی۔ عمران خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان نے درخواست دائر کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی بائیو میٹرک سے استثنی ٰکی درخواست بھی دائر کی گئی۔

یاد رہے اسلام آباد کی مقامی عدالت کی جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے کے کیس میں عدم ہپیشی پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ تھانہ مارگلہ کے علاقہ مجسٹریٹ کی طرف سے عمران خان کے وارنٹ گرفتار ی جاری کیے گئے۔ وارنٹ گرفتاری تھانہ مارگلہ میں 20 اگست کو درج مقدمے میں جاری ہوئے۔

مقدمے میں عمران خان کے خلاف دفعہ 504 اور دفعہ 506 لگائی گئی ہے۔ مقدمے میں عمران خان کے خلاف دفعہ 188/189 لگی ہوئی ہے۔ عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے کا نمبر407 ہے۔ مقدمے میں دفعہ 506 دھمکی آمیز بیان دینے پر درج کی گئی۔

دوسری جانب ترجمان اسلام آباد پولیس نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر اپنے بیان میں کہا کہ وارنٹ گرفتاری ایک قانونی عمل ہے۔ عمران خان پچھلی پیشی پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ ان کی عدالت میں پیشی کو یقینی بنانے کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معزز عدالت عالیہ نے مقدمہ نمبر 407/22 سے دہشت گردی کی دفعہ خارج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم کے بعد یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ عمران خان نے سیشن کورٹ سے ابھی تک اپنی ضمانت نہیں کروائی، پیش نہ ہونے کی صورت میں انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ افواہوں پر کان مت دھریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں