عمران خان کی معافی قبول، توہین عدالت کا کیس خارج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے جج کو دھمکیاں دینے پر توہین عدالت کا کیس خارج کرتے ہوئے شوکاز نوٹس واپس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف جج کو دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم توہین عدالت کا نوٹس ڈسچارج کر کے کارروائی ختم کر رہے ہیں۔ یہ لار جر بینچ کا متفقہ فیصلہ ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اعتراض اٹھایا اور عمران خان کا بیان حلفی منظور کرنے کی مخالفت کی۔ عدالتی معاون نے کہا کہ عمران خان نے بیان حلفی میں غیر مشروط معافی نہیں مانگی۔

گزشتہ سماعت کے دوران عدالت میں سابق وزیر اعظم کی جانب سے معافی مانگے جانے پر عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کو موخر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی تھی۔

اس سے قبل چئیرمین تحریک انصاف مجسٹریٹ زیبا چوہدری کی عدالت میں آئے اور ان کے ریڈر کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ جج صاحبہ کو بتا دیں کہ عمران خان الفاظ سے دل آزاری ہونے پر معذرت کرنے آیا تھا۔ واضح رہے کہ سیشن جج زیبا چھٹیوں پر ہیں اور اپنی عدالت میں موجود نہیں تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں