’’پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث سیلاب ایسی ناگہانی آفت کا سامنا کرنا پڑا‘‘

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کا سیلاب متاثرین کے لئے نئی فلیش اپیل کی تقریب سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور ان سے نمٹنے کے لئے امداد و بحالی کی ضروریات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی ایسی ناگہانی آفت کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے تاہم پاکستان اکیلے اس چیلنج سے نہیں نمٹ سکتا، اس سلسلے میں تعاون کے لیے عالمی برادری کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنیوا میں سیلاب متاثرین کے لئے پاکستان اور اقوام متحدہ کی نئی فلیش اپیل جاری کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب کا پانی اب بھی کھڑا ہے جبکہ متاثرین کی امداد و بحالی کے لئے فنڈز اور وسائل کی کمی ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے امداد کی یقین دہانیوں کے باوجود بحرانی کیفیت سنگین ہو چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بری طرح متاثر ہوا ہے، اس کی واضح مثال حالیہ سیلاب اور ان کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب کو صدی کی بڑی آفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی آئی ہے، کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں، 1700 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، متاثرہ علاقوں میں فصلیں تباہ ہو گئیں، مویشی بہہ گئے ہیں جبکہ وسیع پیمانے پر زیر کاشت اراضی تباہ ہو گئی ہے۔ اس سے جہاں لوگوں کا ذریعہ معاش ختم ہو گیا وہاں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال پیدا ہونے کا بھی خطرہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے، سڑکیں سیلاب میں غرق ہو گئیں جبکہ پل بہہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث بیماریاں پھیلنے کے پیش نظر صحت کا بحران بھی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت صورتحال سے نمٹنے اور متاثرین کی امداد وبحالی کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاہم یہ بہت بڑا چیلنج ہے، لاکھوں متاثرین امداد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ادویات اور دیگر طبی سہولیات کی ضرورت ہے۔ موسم سرما کی آمد آمد ہے، انہیں سردی سے بچانے کے لئے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان متاثرین کی امداد و بحالی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے ہوئے ہے تاہم اس تباہی کی نوعیت اور اتنے بڑے پیمانے پر متاثرین کی ضروریات کے پیش نظر اسے عالمی برادری کی مدد وتعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، اس حوالے سے ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں