’پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کوکسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیاجائے گا‘

ریڈزون میں سرکاری عمارتوں اورڈپلومیٹک انکلیوکی سکیورٹی پاک فوج کے سپردہوگی:وزارت داخلہ میں اجلاس میں فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وزیراعظم شہبازشریف کے زیرقیادت مخلوط وفاقی حکومت نے حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی اسلام آبادپرممکنہ چڑھائی کو روکنے کے لیےحکمت عملی مرتب کرلی ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا ، ریڈ زون میں واقع سرکاری عمارتوں اور ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی پاک فوج کے حوالے ہوگی۔

اسلام آباد میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے وفاقی پولیس سمیت سندھ پولیس، رینجرز،اور ایف سی کی خدمات لی جائیں گی ،آتشیں اسلحہ ساتھ رکھنے پر پابندی ہوگی۔نیز لانگ مارچ کو لاجسٹک اور مالی معاونت مہیّا کرنے والے افراداورتنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ فیصلے منگل کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کےاجلاس میں کیے گئے ہیں۔اجلاس میں سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، کمانڈنٹ ایف سی صلاح الدین محسود،آئی جی اسلام آباد ڈاکٹراکبرناصر، کمانڈر رینجرز اسلام آباد ، چیف کمشنراسلام آباد عثمان یونس، ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ ،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کی شرکت کی۔اجلاس میں سکیورٹی ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے نمائندے بھی شریک تھے۔

اجلاس میں پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ اور دھرنے کوروکنے سے متعلق حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی ہدایت پریہ اجلاس اِن کیمرا منعقد ہوا ہے۔سکیورٹی ایجنسیوں نے وزیرداخلہ راناثناءاللہ کوپی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے بریفنگ دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے شرکاء کی تعداد 15سے 20 ہزار کے درمیان ہونے کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاک فوج کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت حکومت کی معاونت کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق پر پی ٹی آئی کے جلوس کے ساتھ چڑھائی کرنے اور معاونت فراہم کرنے والے کسی بھی وفاقی ملازم کی مکمل شناخت کرکے ان کے خلاف ایسٹاکوڈ کے تحت کارروائی کی جائے گی ۔وزیرداخلہ نے شرکاء کو واضح ہدایات دیں کہ لانگ مارچ کے دوران میں اسلام آباد کے شہریوں کی نقل وحمل کی آزادی کو برقرار رکھا جائے گا اوراسپتالوں اوراسکولوں کو فعال رکھا جائے گا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں