سیلاب زدگان کو 10 جہازوں، 610 ٹرکوں کے ذریعے 4000 ٹن سے زائد امدادی سامان کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں سعودی امداد کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک سیلاب زدگان کو 10 جہازوں، 610 ٹرکوں کے ذریعے 4000 ٹن امدادی سامان فراہم کیا جا کا ہے، پہلے مرحلے میں اشیائے خور ونوش اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا ہے۔

یہ بات پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے سعودی سفارتخانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر انسانی اور املاک کا نقصان ہوا ہے جس کے لئیے خادم الحرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد وزیر اعظم محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایت پر پاکستان میں پندرہ جولائی سے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں۔

سعودی سفیر نے بتایا کہ سیلاب کی تباہی سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے سعودی عرب کی شاہ سلیمان ریلیف تنظیم پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ہنگامی امداد کی فراہمی میں مصروف ہے۔

چئیرمین نیشنل ڈیزاسسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، لیفٹینینٹ جنرل اختر نواز ستّی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے دنیا کے پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب اور شدید بارشوں نے پاکستان اور خطے میں ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں جس سے 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ، ہزاروں جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ اربوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی سیلاب سے حالات خراب ہوئے پاکستان کے دوست ممالک امداد کیلئے پہنچ گئے جن میں سعودی عرب سرفہرست ہے۔

سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چئیرمین نیشنل ڈیزاسسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 کے زلزلے اور 2010 میں سیلاب کے دوران سعودی عرب نے متاثرین کی بے مثال امداد کی تھی، موجودہ چیلنج سے نمٹنے کے لئے سعودی عرب نے پاکستان کا شاندار طریقے سے ہاتھ بٹایا جس پر میں پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے سعودی عوام اور حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے سعودی تنظیم کے۔ایس ریلیف کی امدادی سرگرمیوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔

قبل ازیں شاہ سلمان ریلیف ارگنائزیشن (KSrelief) کے سربراہ ڈاکٹر خالد عثمانی نے امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب،سندھ ،بلوچستان ،خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے 51 متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مکمل کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں روزانہ استعمال کی ضروری اشیائے خوردونوش کے 15000 پیکجز تقسیم کرنے کا انتظام کیا گیا۔

دوسرے مرحلے میں سعودی عرب میں امدادی فنڈ جمع کرنے کی مہم چلائی گئی اور ایک فضائی پل قائم کیا گیا جس کے تحت اب تک (10) دس طیارے سعودی امداد لے کر پاکستان آچُکے ہیں ان میں 2952 خوراک کے بکس، 972 این ایف آئی کٹس، 660 ٹینٹ، 1682 کھجور کے ڈبے، 3192 چھوٹے کمبل، 5040 اور بڑے کمبل شامل ہیں جن سے 53,136 افراد مستفید ہوں گے جبکہ تیسرے مرحلے میں ان کی تنظیم نے مختلف زمینی آپریشنز بھی شروع کیے جن میں 50,000 فوڈ پیکجز، 50,000 مچھر دانیاں اور 5,000 ٹینٹ کی فراہمی اور تقسیم شامل ہے۔ ہرفوڈ پیکج کا وزن 62 کلو ہے جس میں 40 کلو آٹا، 5 لیٹر خوردنی تیل، 5 کلو چینی، 5 کلو چاول، 5 کلو دال چنا، 2 کلو کھجور اور بچوں کے لیے انرجی بسکٹ کا ایک پیکٹ شامل ہیں۔ یہ فوڈ پیکج پورے ایک ماہ کے لیے ایک خاندان کے لیے کافی ہیں۔

ڈاکٹر خالد عثمانی نے کہا کہ اس کے علاوہ نازک صورتحال اور خیموں کی اشد ضرورت کے پیش نظر، عارضی رہائش کے لیے اضافی 5000 خیمے اور 50,000 مچھردانیاں 25,000 اشیاۓ ضروریہ کٹس اور موسم سرما کے لئے 25,000 ریلیف کٹس بھی فراہم کی گئیں ہیں۔اس طرح پاکستان بھر کے تمام متاثرہ علاقوں میں زمینی امدادی مہم سے 732,500 افراد مستفید ہوں گے جبکہ شاہ سلمان ریلیف ارگنائزیشن کی طرف سے اب تک کل 4385 ٹن مختلف قسم کا امدادی سامان تقسیم کیا جا چکا ہے جس سے کُل 785,636 سے زیادہ متاثرین سے مستفید ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں