وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

رانا ثناء اللہ کے وارنٹ اینٹی کرپشن انکوائری میں پیش نہ ہونے پر جاری ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کی درخواست پر راولپنڈی کی سول عدالت نے کرپشن کیس میں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

سینیئر سول جج غلام اکبر کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق ’رانا ثنا اللہ کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں نامزد کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری مقدمہ میں ضروری ہے لہٰذا ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں‘۔

رانا ثناء اللہ کے خلاف اینٹی کرپشن کی جانب سے انکوائری جاری ہے۔ انہیں پیش ہونے کا حکم دیا تاہم وہ حاضر نہ ہوئے جس پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق رانا ثناء اللہ کے وارنٹ مقدمہ نمبر 20/19 میں اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ نے جاری کئے اور انہیں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔

ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے مطابق رانا ثنا اللہ پر کلر کہار میں بسمہ اللہ فارم ہاوسنگ سوسائٹی میں شیڈول ریٹ سے انتہائی کم قیمت پر 2 فارم ہاوسز بطور رشوت لینے کا الزام ہے، بسم اللہ فارم ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک اخلاق احمد پر اپنی غیر قانونی سوسائٹی کو رجسٹرڈ کروانے کے لیے رانا ثنا اللہ کو پلاٹ دینے کا الزام ہے۔

ان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ اپنی اہلیہ نبیلہ ثنا اللہ کے ہمراہ بطور وزیر قانون بسم اللہ سوسائٹی کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے، دونوں پلاٹس رانا ثنا اللہ کی اہلیہ کو بلامعاوضہ بطور رشوت دیے گئے۔

اس حوالے سے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری عمران خان کے خوف کی وجہ سے جاری ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں