سازش کا قائل نہیں لیکن تحقیقات ہونی چاہیے: صدر علوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر قائل نہیں ہوئے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کیلئے کوئی غیر ملکی سازش کی گئی تھی، تاہم اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

صدر پاکستان نے یہ بات ’’آج نیوز‘‘ کی عاصمہ شیرازی کو ان کے پروگرام ”فیصلہ آپ کا“ کے لیے دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

اس انٹرویو میں صدر عارف علوی نے نئے آرمی چیف کی تقرری پر وسیع تر مشاورت پر بھی زور دیا۔

عارف علوی نے کہا کہ بطور صدر وہ غیر جانبدار ہیں اور تحریک انصاف سے تعلق ان کا ماضی ہے۔ ”پارٹی میرا ماضی ہے۔ بڑا اچھا ماضی ہے۔“

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر کوشش کر سکتا ہے کہ پاکستان کے اندر یہ دوریاں پیدا نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے بہت مسائل ہیں، کوئی ایک maverick (غیر معمولی شخص) یہ مسائل حل نہیں کر سکتا۔

عمران خان اور حکومت دونوں جانب سے مذاکرات سے انکار پر صدر عارف نے کہا کہ عمران خان اپنی حکومت ہٹائے جانے اور بالخصوص جس انداز میں حکومت ہٹائی گئی اس پر سخت مایوس ہوئے اور انہوں نے مایوسی میں فیصلہ کیا کہ اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے۔

عاصمہ شیرازی نے سوال کیا، ”کیا عمران خان کا اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ درست فیصلہ تھا؟“

صدر علوی نے جواب میں کہا کہ مجھ سے مشورہ ہوتا تو میں مختلف مشورہ دے سکتا تھا۔

عمران خان کے ممکنہ مارچ اور فوج کے کردار سے متعلق سوال پر صدر نے کہا کہ فوج کا ایک آئینی کردار ہے، میں نہیں سمجھتا کہ فوج کوئی غیر آئینی کردار ادا کرے۔

سازش پر قائل نہیں

صدر علوی حالیہ دنوں امریکہ اور پاکستان میں تعلقات بہتر کرنے کی بات کر چکے ہیں جو سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکہ پر سازش کے الزامات کے بعد خراب ہوئے۔

اس حوالے سے سوال پر صدر نے کہا کہ انہوں نے سفارتی سائفر تحقیقات کے لیے چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔

”میں اس بات پر قائل ہوں کہ اس پر تحقیقات ہونے چاہیئں۔ میں اس بات پر قائل نہیں کہ سازش ہوئی۔ مگر میرے شبہات ہیں۔ کہ تحقیق ہو۔ میں نے یہ بھی کہا کہ سموکنگ گن (ثبوت) نہیں ملے گی آپ کو۔ ان چیزوں میں نہیں ملتی۔“

صدر علوی نے لیاقت علی خان کے قتل، بھٹو کی اقتدار سے معزولی اور ضیا الحق کے طیارے کی تباہی سمیت کئی واقعات کا حوالہ دیا اور کہا ان معاملات میں کسی کو کچھ نہیں ملا۔

عارف علوی نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ واقعات شواہد کو بھی مد نظر رکھے۔

آرمی چیف کی تقرری

صدر مملکت نے کہا کہ آرمی چیف کے تقرر میں آئینی طریقہ کار پر عمل ہونا چاہیے۔

اس سوال پر کہ انہوں نے مشاورت کی تجویز دی ہے، ڈاکٹر علوی نے کہا کہ مشاورت ہونی چاہئے لیکن ان کی خواہش ہے کہ ان کے پاس سمری مشاورت کے بعد آئے۔

صدر علوی نے کہا کہ انہوں نے اخبار میں پڑھا کہ لندن میں مشاورت ہو رہی ہے۔

تو آپ چاہتے ہیں کہ عمران خان صاحب کے ساتھ بھی اسی طرح مشاورت ہو؟ اس سوال کے جواب میں صدر علوی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وسیع تر مشاورت ہونی چاہیے۔

صدر مملکت نے کہاکہ ماضی میں آرمی چیف کے تقرر پر اپوزیشن سے مشاورت ہوتی رہی ہے اور موجودہ آرمی چیف جنرل باجوہ کو توسیع دیتے وقت بھی اپوزیشن سے مشاورت ہوئی تھی جس کے بعد پارلیمنٹ میں بل منظور کیا گیا۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں