وزیراعظم شہبازشریف اورحمزہ شہباز16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں برّی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لاہور کی خصوصی احتساب عدالت نے وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو16 ارب روپے کی مبیّنہ منی لانڈرنگ کے کیس میں عدم ثبوت کی بنا پربرّی کردیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج اعجازحسن اعوان نے بدھ کو اس مقدمے کا مختصر فیصلہ سنایا ہے۔منگل کو سماعت کے دوران میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے عدالت کو بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے بینک اکاؤنٹس میں بے نامی کھاتوں سے براہ راست کوئی رقم منتقل نہیں کی گئی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے نومبر 2020 میں شہبازشریف اور ان کے دونوں بیٹوں حمزہ اور سلیمان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔سلیمان کو عدالت نے مقدمے کی کارروائی میں مسلسل غیر حاضر رہنے پر اشتہاری مجرم قرار دیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں وزیراعظم شہبازشریف نے منی لانڈرنگ کے جھوٹے، بے بنیاد اور سیاسی انتقام پر مبنی کیس میں فتح پر اللہ کا شکر ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ آج ہم عدالت، قانون اور قوم کے سامنے سرخرو ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے اپنے سرکاری ٹویٹراکاؤنٹ پرایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا ایک اور من گھڑت مقدمہ اپنے ناگزیرانجام کو پہنچ رہا ہے‘‘۔

مقدمے کی کارروائی

آج سماعت کے آغاز پر میاں شہباز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویزنے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم کو ان کی ناگزیر سرکاری مصروفیات کی وجہ سے حاضری سے ایک اور استثنیٰ دیا جائے۔عدالت نے منگل کے روز اسی طرح کی درخواست کو منظور کیا تھا۔

امجد پرویزنے جج اعجازحسن اعوان کو بتایا کہ کسی بھی گواہ نے وزیراعظم یا ان کے بیٹے کے خلاف بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ انھوں نے تفتیشی افسر پر گواہوں کے ’’بیانات کو توڑ مروڑ‘‘ کرپیش کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عاید کیا۔

انھوں نے ایف آئی اے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے ’’بدنیتی کی بنیاد پر‘‘مقدمات بنائے ہیں۔انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق استغاثہ کو اپنا کیس ثابت کرنا ہوتا ہے، استغاثہ اب تک رشوت ستانی کے الزام پر کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔

ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ شریک ملزم مسرورانور شہباز شریف کے بینک اکاؤنٹس چلاتا رہا ہے، تمام بے نامی اکاؤنٹس رمضان شوگرملز کے ملازمین چلاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایک اور مشتبہ شخص گلزار احمدکا اکاؤنٹ اس کی موت کے بعد بھی چلایا جاتا رہا ہے۔

ان سے جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس آپ کے بیان کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت ہے؟اس پرفاروق باجوہ نے جواب دیا کہ دستیاب ریکارڈ میں اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد جج نے کیس کافیصلہ محفوظ کرلیا۔

منگل کوجج نے ابتدائی طور پر استغاثہ سے پوچھا کہ رمضان شوگرملز میں چپڑاسی ملک مقصود احمد کے نام پر کتنے بینک اکاؤنٹس چلائے گئے جو متحدہ عرب امارات میں مفرور رہتے ہوئے وفات پا گئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ چالان میں مقصود احمد کے 8 بینک اکاؤنٹس کا ذکر کیا گیا ہے مگرشہباز شریف اور حمزہ شہباز کے بینک اکاؤنٹس میں براہ راست رقم جمع کرانے یا نکالنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز شوگرملز کے شیئر ہولڈر ہیں لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ملزکے ملازمین کے بینک اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی ان کی ہدایت پر کی گئی ہے۔

یادرہے کہ ایف آئی اے نے دسمبر 2021 میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف چینی اسکینڈل کیس میں 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں مبیّنہ طور پر ملوث ہونے پر خصوصی عدالت میں چالان پیش کیا تھا۔

تحقیقاتی ٹیم نے مبیّنہ طور پرشہباز خاندان کے 28 بے نامی اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے۔ان کے ذریعے سنہ 2008-18 کے دوران میں 16 ارب 30 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ادارے نے 17 ہزار کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کا جائزہ لیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ رقم 'خفیہ اکاؤنٹس' میں رکھی گئی اور شہباز شریف کو ذاتی حیثیت میں دی گئی تھی۔اس رقم (16 ارب روپے) کا (شہباز خاندان کے) چینی کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ایف آئی اے نے الزام عاید کیا تھا کہ شہباز شریف کی جانب سے کم اجرت والے ملازمین کے اکاؤنٹس سے حاصل ہونے والی رقم ہنڈی/ حوالہ نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان سے باہر منتقل کی گئی، جو بالآخر ان کے اہل خانہ کے فائدے کے لیے استعمال کی گئی۔

بیان میں کہا گیا تھاکہ شریف گروپ کےکم تن خواہ پانے والے گیارہ ملازمین نے مرکزی ملزم کی جانب سے منی لانڈرنگ سے حاصل ہونے والی رقم کو 'اپنے پاس' رکھا اور وہ منی لانڈرنگ میں سہولت کاری کے مرتکب پائے گئے۔شریف گروپ کے تین دیگر شریک ملزمان نے بھی منی لانڈرنگ میں فعال طور پر مدد کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں