بائیڈن کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بیان پر پاکستان امریکی سفیرکو طلب کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بیان پر اسلام آباد میں متعیّن امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کووضاحت کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صدر بائیڈن نے جمعرات کو ڈیموکریٹک پارٹی کی کانگریس کی انتخابی مہم کمیٹی کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان ’’دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک‘‘ہوسکتا ہے کیونکہ اس ملک کے پاس ’’بغیرکسی ٹھوس ڈھانچے کے جوہری ہتھیار‘‘ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر شائع شدہ بائیڈن کی اس تقریر کے متن میں گیا ہے کہ’’... اور میرے خیال میں شاید دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک پاکستان ہے۔اس کے پاس بغیر کسی ہم آہنگی اور ٹھوس ڈھانچے کے جوہری ہتھیار ہیں‘‘۔

وزیرخارجہ نے ان کے بیان کے ردعمل میں کراچی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’جہاں تک سکیورٹی اور تحفظ کا تعلق ہے تو پاکستان کے جوہری اثاثے آئی اے ای اے (بین الاقوامی توانائی ایجنسی) کے مطابق ہربین الاقوامی معیار پرپورااُترتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا ’’اگر جوہری تحفظ کے حوالے سے کوئی سوال اٹھتاہے تو اس کا رخ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی جانب ہونا چاہیے جس نے حال ہی میں غلطی سے پاکستانی علاقے میں میزائل داغ دیا تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک نہ صرف غیرذمہ دارانہ اورغیرمحفوظ ہے بلکہ جوہری صلاحیت کے حامل ممالک کی حفاظت کے بارے میں حقیقی اور سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ’’میں صدر بائیڈن کے تبصرے سے حیران ہوں۔مجھے یقین ہے کہ یہ بالکل اسی طرح کی غلط فہمی ہے جواس وقت پیدا ہوتی ہے جب میل ملاقاتوں اور تعلقات کی کمی ہوتی ہے‘‘۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان نے (امریکا کے ساتھ ازسرنومیل ملاقاتوں اور)’مصروفیات کے سفر' کا آغاز کیا ہے اور حال ہی میں امریکاکے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منائی ہے۔

انھوں نے صدر بائیڈن کے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ اس طرح کی تشویش تھی، تو اس کا اظہارمجھ سے امریکا میں حال ہی میں امریکی حکام نے ملاقاتوں میں کیاہوتا۔مجھے یقین ہے کہ ہم نے ابھی اپنے تعلقات کا سفر شروع کیا ہے اور ہمارے پاس امریکا کے ساتھ بات چیت کرنے اورکسی بھی قسم کے خدشات اور غلط فہمیوں کو دورکرنے کے بہت سے مواقع ہوں گے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ہم نے امریکی سفیر کوصدر بائیڈن کے بیان پر احتجاج کے لیے طلب کیا ہے۔امریکا کو اپنا مؤقف واضح کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس سے پاکستان اور امریکاکے دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بائیڈن کے بیان سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم ان کے سفیر کو فون کریں گے اور ایک احتجاجی مراسلہ جاری کریں گے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ ایک سرکاری تقریب تھی اورپارلیمان سے خطاب یا انٹرویو نہیں تھا بلکہ یہ چندہ اکٹھا کرنے کی تقریب تھی اور یہ ایک غیر روایتی گفتگو تھی جس میں یہ جملہ استعمال کیا گیا تھا لہٰذا اسے اس انداز میں دیکھا جانا چاہیے،میرے خیال میں ہم اس بیان کو اس طرح دیکھیں گے۔

تاہم اس کے ساتھ ہی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قوم کو سازشی نظریات کے بارے میں گفتگو سے گریز کرنا چاہیے۔انھوں نے واضح کیا کہ اگرحکومت کو کوئی دباؤمحسوس ہوتا تو اسے عوام کے سامنے لایا جاتالیکن ایسا کوئی مسئلہ نہیں،مختلف مسائل پر ہمارے مؤقف مختلف ہیں، لیکن جب آپ ذمہ دار اور بالغ ریاستیں ہیں، تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرتے،میل ملاقاتیں کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزیدکہا کہ پاکستان کے پاس باقی دنیا کے ساتھ مثبت انداز میں بات چیت کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔

عمران خان کے غیرذمہ دارانہ بیانات

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان جھوٹے ہیں اور ان کی حقیقت قوم کے سامنے بے نقاب کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔انھوں نے کہاکہ وزیراعظم کے طور پر اپنے دور میں عمران خان عوام سے کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی پورا کرنے میں ناکام رہے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کے سربراہ کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے ملک کو بھاری نقصان پہنچا اور دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوئے اورآج ہم اس نقصان کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمیں سخت محنت کرناہوگی لیکن میں مطمئن ہوں کہ ہماری خارجہ پالیسی کی سمت درست ہے۔

انھوں نے باورکرایا کہ عمران خان ماضی میں ملک کے جوہری اثاثوں کے بارے میں’’غیر ذمہ دارانہ بیانات‘‘ دے چکے ہیں۔ جب انھیں وزیراعظم کی نشست چھوڑنا پڑی تو انھوں نے سرِعام کہا کہ بہتر ہے کہ پاکستان پر ایٹم بم گرایا جائے۔مجھے دنیا کی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی،جب ایک شخص،جو سابق وزیر اعظم ہے، اپنے ہی ملک کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اختیار دیا گیا کہ ملکی تاریخ میں کسی اور کو وزیراعظم نہیں دیا گیا۔ عمران خان کے ساتھ جتنی نرم روی اختیار کی گئی،اتنی کسی اور وزیر اعظم کے ساتھ نہیں کی گئی۔انھوں نے مزید کہا کہ جن تجربات سے قوم کی قسمت کے ساتھ کھیلا جاتا ہے ان کا ہر بار الٹا اثر ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں لوگوں پر اعتماد کرنے کے نتائج پر بھروساکرنا چاہیے۔

یوکرین جنگ؛ پاکستان کا مؤقف

یوکرین کے بارے میں پاکستان کے مؤقف پربات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ ملک نے اس ہفتے کے اوائل میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کردہ قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ کیوں نہیں لیا۔

قرارداد میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے چارعلاقوں کوتسلیم نہ کریں۔روس نے اپنے قبضے ان یوکرینی علاقوں کو ریفرنڈم کے ذریعے ضم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کی دو وجوہات ہیں۔اس قرارداد میں ماضی کی دیگر قراردادوں کی زبان شامل تھی جن سے پاکستان پہلے ہی غیرحاضر رہا تھا۔

انھوں نے وضاحت کی اور پھر پاکستان کی جانب سے پیش کردہ وضاحتی نوٹ کے کچھ حصوں کو بیان کیا کہ امن کے حصول کے لیے جنگی مخاصمت کے فوری خاتمے اور سفارت کاری کے ذریعے قیام امن کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔

انھوں نے واضح کیاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر متنازع علاقے کشمیر کو ضم کرنے کے بھارت کے اقدام کے بارے میں اسی طرح کی تشویش ملاحظہ کرنے کے منتظر ہیں حالانکہ بھارت کا اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں