وزیراعظم شہبازشریف نے بائیڈن کاجوہری ہتھیاروں سے متعلق ’گم راہ کن‘ بیان مستردکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیراعظم شہبازشریف نے امریکی صدر جو بائیڈن کے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بیان کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قراردے کرمسترد کردیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے جوبائیڈن کے تنقیدی کلمات کے جواب میں ایک تفصیلی بیان جاری کیا۔انھوں نے کہا ہے کہ گذشتہ دہائیوں کے دوران میں پاکستان’’سب سے زیادہ ذمہ دارجوہری ریاست‘‘ ثابت ہوا ہے۔اس کے جوہری پروگرام کو’’تکنیکی طور پر مضبوط اور فول پروف کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم‘‘کے ذریعے منظم کیا گیاتھا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت میں مسلسل ذمہ دارانہ قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔اس نے جوہری عدم پھیلاؤ، تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے آئی اے ای اے (بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی) سمیت عالمی معیارات کے لیے بہت مضبوط عزم کا اظہارکیاہے۔

ہفتے کو اسلام آباد میں جاری کردہ ایک سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اصل خطرہ ’’لٹرا نیشنل ازم ، غیر قانونی قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والے خطوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، کچھ ریاستوں کی طرف سے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ، بار بار جوہری سلامتی کے واقعات، جوہری ہتھیار رکھنے والے سرکردہ ممالک کے مابین اسلحہ کی دوڑ اور علاقائی توازن کو خراب کرنے والے نئے سکیورٹی ڈھانچے سے پیدا ہوا ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دوستانہ اورباہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے اور یہ انتہائی ضروری ہے کہ ایسے وقت میں جب دنیا کو بڑے عالمی چیلنجز کا سامنا ہے، دونوں ملکوں کے تعلقات کی حقیقی صلاحیت کو تسلیم کرنے کے لیے حقیقی اور پائیدار کوششیں کی جائیں۔

بیان کے مطابق ’’غیرضروری تبصروں‘‘سے گریز کیا جانا چاہیے اور یہ پاکستان کی "مخلصانہ خواہش" ہے کہ وہ علاقائی امن اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کرے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دارجوہری ریاست ہے جس نے جوہری تحفظ کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ملک کے جوہری اثاثوں میں آئی اے ای اے کے تقاضوں کے مطابق ’’بہترین‘‘ حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کہا ہے اور کہا کہ ایک ذمہ دارجوہری طاقت کے طور پر پاکستان کا ریکارڈناقابل تردید ہےاور بین الاقوامی سطح پراس کی تصدیق کی گئی ہے،عراق میں وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے برعکس‘‘-انھوں نے عراق میں وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں امریکی دعووں کا حوالہ دیا ہے۔امریکا نے عراق میں ان ہتھیاروں کی موجودگی کا حوالہ دے کر جنگ مسلط کی تھی لیکن صدام حسین کی حکومت کے کوئی ایسے ہتھیار برآمد نہیں ہوئے تھے۔

وزیردفاع نے نشان دہی کی کہ ’’ہم نے تاریخی طور پر ان مسلح افواج کو فوجی امداد بھی مہیّاکی ہے جن کے کمانڈر انچیف غلطی سے ہماری ’ہم آہنگی‘ پر سوال اٹھاتے ہیں۔

صدر بائیڈن نے جمعرات کو ڈیموکریٹک پارٹی کی کانگریس کی انتخابی مہم کمیٹی کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان ’’دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک‘‘ہوسکتا ہے کیونکہ اس ملک کے پاس ’’بغیرکسی ٹھوس ڈھانچے کے جوہری ہتھیار‘‘ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر شائع شدہ بائیڈن کی اس تقریر کے متن میں کہا گیا ہے کہ’’... اور میرے خیال میں شاید دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک پاکستان ہے۔اس کے پاس بغیر کسی ہم آہنگی اور ٹھوس ڈھانچے کے جوہری ہتھیار ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں