پاکستان ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کی شکست،انٹیلی جنس بیورو نے پیشگی بتا دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جماعت مسلم لیگ نواز کا شروع سے خیال تھا کہ قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں سے صرف ایک نشست ان کی جماعت کے ہاتھ آ سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں ۔

لیکن ضمنی انتخاب سے قبل محض ایک روز قبل انٹیلی جنس بیورو سے وزیر اعظم کو ملنے والی حتمی خفیہ رپورٹ میں نواز لیگ کو ایک بھی قومی نشست نہ ملنے کی اطلاع دے دی تھی۔ صرف ایک صوبائی نشست کی خوشخبری سنائی تھی۔ البتہ ملتان میں پی پی کی جیت کے بارے میں مثبت اطلاع دی تھی ۔ آئی بی کے مطابق باقی تمام نشستوں پر پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ کی جیت ہو گی۔

حکمران اتحاد کی سب سے اہم جماعت کے ایک ذمہ دار رہنما کے مطابق ' مسلم لیگ نواز کی یہ واضح رائے تھی کہ اس ضمنی انتخاب میں جیت عمران خان اور ان کی کی جماعت کی ہو گی، کیونکہ صوبہ پنجاب کی پندرہ نشستوں پرضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کی جیت سے اب تک مہنگائی زدہ عوام نواز لیگ کے لیے کوئی اچھی رائے نہیں بنا سکے ہیں۔ جبکہ عمران خان مسلسل میدان میں ہیں اور اپنا جو بھی بیانیہ ہے اسے بیچ رہے ہیں۔

اس رہنما کے بقول فیلڈ سے ملنے والے فیڈ بیک سے اندازہ تھا عوامی رائے کافی شدت اختیار کر چکی ہے اور ممکن ہے کہ انتخابی مہم میں جانے کے بعد نواز لیگ کی ساکھ اور حکومتی مستقبل مخدوش ہوتا نظر آئے۔ اس لیے کم از کم شریف خاندان کے کسی فرد کو انتخابی مہم میں نہ بھیجا جائے۔ اسی سوچ کے تحت مریم نواز کو بیرون ملک سے بلا وا آ گیا اور حمزہ کو گھر سے نکل کر انتخابی جلسوں تک نہ جانے دیا گیا۔

حکمران جماعت کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا تھا کہ نواز لیگ نے مہنگائی کے مارے عوام کے رد عمل سے بچنے اور اپنے وسائل و توانائی کو اس سے اگلے ضمنی انتخابی معرکے کے لیے بچا کے رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اگرنتائج کی ففٹی ففٹی والی امید بھی ہوتی تو مریم نواز انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیتیں اور نتائج کا رخ تبدیل کر دیتیں۔

پارٹی ذمہ دار نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا ' نواز لیگ کے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین ننکانہ صاحب سے متعلق قومی نشست این اے 118 کے لیے مہم کے انچارج تھے ۔ انہوں نے انتخابی مہم کو اچھے طریقے سے چلایا ۔ ان کا جلسہ بھی عمران خان کے مقابلے میں بہت بڑا ہواتھا ۔

جس کے بعد انہوں نے پارٹی قیادت کو بتایا کہ این اے 118 کی نشست جیت لی جائے گی۔ مگر ہفتے کے روز یعنی ضمنی انتخاب سے محض ایک روز قبل انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ نے این اے 118 میں بھی نواز لیگ کے ہارجانے کی پیشگی خبر دے دی، البتہ ملتان میں این 157 میں پی پی پی کے امیدوار علی موسیٰ کی جیت کا پختہ امکان ظاہر کیا اور اس کے ساتھ شرق پور میں صوبائی نشست پر مسلم لیگ نواز کی بھی نوید سنائی۔ جیسا کہ بعد ازاں یہی ہوا۔

ان ذرائع کے مطابق نواز لیگ کی اعلی قیادت نے اس ضمنی انتخاب میں محض پارٹی کے اندرونی اختلافات میں کمی کی کوشش کی ، ووٹر پر اثر انداز ہونے کی کوشش بالکل نہیں کی۔ یہی وجہ تھی کہ مریم نواز شریف برطانیہ میں اپنے والد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، بیٹے جنید صفدر اور بھائیوں وغیرہ کے ساتھ لندن کے مضافات کی سیر میں مصروف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں