فیصل واوڈا نے عدالت سے بھی جھوٹ بولا: سپریم کورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے نااہل سینیٹر فیصل واوڈا نے نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ عدالت سے بھی جھوٹ بولا۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کے خلاف فیصل واوڈا کی اپیل کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بینچ نے کی۔

دوران سماعت پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا کے ایک اور جھوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کو فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جن کے ساتھ زائد المیعاد پاسپورٹ کی کاپی لگائی گئی۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فیصل واوڈا نے ریٹرنگ آفیسر کے سامنے زائد المیعاد پاسپورٹ کو منسوخ شدہ پاسپورٹ ظاہر کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو فیصل واوڈا کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فیصل واوڈا نے نہ صرف ریٹرنگ افسر بلکہ سپریم کورٹ کو بھی دھوکہ دیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ زائد المیعاد پاسپورٹ کو جمع کرنا تو ایک اور جھوٹ ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے واوڈا کے وکیل وسیم سجاد سے کہا کہ ان کے مؤکل نے تو آئین سے انحراف کیا، اب تو صرف سوال یہ رہ گیا ہے کہ نااہلی تاحیات ہو گی یا وقتی۔

وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تحقیقات کرنے کا کہا، ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا، فیصل واوڈا نے اعتراض اٹھائے بغیر تحقیقات کے عمل میں حصہ لیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہائی کورٹ کو ڈیکلریشن دینے کا اختیار حاصل ہے۔ واوڈا کے وکیل نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لاء ہے یا نہیں؟ اس سوال پر آئندہ سماعت میں بحث ہوگی۔ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں