صحافی و اینکر پرسن ارشد شریف کینیا میں قتل، غلط فہمی پر گولی ماری گئی: کینین پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سینیئر صحافی اور نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے سابق اینکر ارشد شریف کینیا کے شہر نیروبی کے قریب گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

کینیا کی پولیس کے مطابق صحافی ارشد شریف کی گاڑی کو ایک پولیس چیک پوائنٹ کے پاس غلط فہمی کی بنیاد پر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’ ’آج میں نے اپنا دوست، شوہر اور پسندیدہ صحافی کھو دیا، پولیس نے بتایا ہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے‘۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق واقعہ کینیا کے شہر نیروبی سے دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع علاقے میں پیش آیا، ارشد شریف گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے، کینیا میں پولیس نے ان کی موت کی تصدیق کر دی ہے اور حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جب کہ ابتدائی طور پر اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ حملہ بندوق سے کیا گیا تھا۔

ارشد شریف ایک تجربہ کار صحافی ہونے کے ساتھ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز اینکرز میں سے ایک تھے۔ اے آر وائی نیوز کا شو پاور پلے بطور ٹی وی اینکر ان کا ٹیلی ویژن پر آخری شو تھا۔ وہ ماضی میں ملک کے سرکردہ نیوز چینلز اور اخبارات کے لیے کام کر چکے ہیں۔ انہیں سال 2019 میں ان کی غیر معمولی صحافت خدمات پر ‘صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس’ سے نوازا گیا۔

معروف صحافی کے انتقال پر ان کے ساتھیوں، صحافی برادری اور سیاستدانوں کی جانب سے اظہار تعزیت کیا جارہا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ارشد شریف کی وفات کو صحافت اور پاکستان کے لیے عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ارشد شریف کی روح کو سکون ملے اور اللہ ان کے خاندان اور چاہنے والوں کو اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ دے‘۔


وزیر اعظم شہباز شریف نے ارشد شریف کے اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’صحافی ارشد شریف کی المناک موت کی خبر پر شدید افسردہ ہوں، اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘۔

واضح رہے کہ رواں برس پولیس نے ارشد شریف، اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے صدر اور سی ای او سلمان اقبال، نیوزاینڈ کرنٹ افیئرز کے سربراہ عماد یوسف، اینکر پرسن خاور گھمن اور ایک پروڈیوسر کے خلاف 8 اگست کو پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شہباز گل کے چینل پر نشر کیے گئے ایک متنازع انٹرویو پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا۔

ایک دن بعد، وزارت داخلہ نے اس فیصلے کی وجہ کے طور پر'ایجنسیوں کی طرف سے منفی رپورٹس' کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کا این او سی کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا تھا اور اس کے بعد ارشد شریف ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

ایک روز بعد وزارت داخلہ نے اس فیصلے کی وجہ کے طور پر'ایجنسیوں کی طرف سے منفی رپورٹس' کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کا این او سی کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا تھا اور اس کے بعد ارشد شریف ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

بعد ازاں ’اے آر وائی نیوز‘ نے کوئی خاص وجہ کا حوالہ دیے بغیر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ارشد شریف سے 'راستے جدا' کرلیے ہیں اور توقع ظاہر کی تھی کہ سوشل میڈیا پر ان کے ملازمین کا رویہ ادارے کے قواعد کے مطابق ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں