پاکستان میں ارشد شریف کو کوئی خطرہ نہیں تھا: پاک فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ [آئی ایس پی آر] اور انٹیلی جنس ایجنسی 'انٹر سروسز انٹیلی جنس' [آئی ایس آئی] کے سربراہان نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ پاکستانی صحافی ارشد شریف کی زندگی کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار اور آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے راولپنڈی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافی ارشد شریف کے بیرون ملک قتل، سائفر کے معاملے اور دیگر امور سے متعلق گفتگو کی۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آی ایس پی آر نے سائفر معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے 11 مارچ کو کامرہ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی توجہ سائفر کی طرف دلائی تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ مگر چند دن بعد ہی 27 مارچ میں اس سائفر کو سازش کے طور پر پیش کیا گیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق اس کے بعد 31 مارچ کو نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی ملاقات میں بھی اسی سائفر پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سفیر کا ذاتی تجزیہ ہے اور اس میں حکومت کے خلاف سازش کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس کی یہ تحقیقات عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ حکومت پر چھوڑا گیا جنہوں نے مخصوص بیانیہ اپناتے ہوئے رجیم چینج کی بات کی۔

ارشد شریف کی جان کو درپیش خطرے سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پانچ اکتوبر 2022 کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر ارشد شریف کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا کہ ٹی ٹی پی انہیں نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ کے پی حکومت نے ایسی کسی معلومات کو سکیورٹی اداروں کے ساتھ شئیر نہیں کیا۔

اس کے بعد ارشد شریف کو کراچی سے دبئی کی فلائٹ میں ٹکٹ اے آر وائی کی جانب سے لے کر دیا گیا۔ اس کے بعد دبئی میں ویزا کی معیاد ختم ہونے پر وہ کینیا گئے۔

پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ وہ اپنے کینین ہم منصب کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تمام پیش رفت سے آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنی تشکیل کردہ تحقیقاتی ٹیم میں پہلے آئی ایس آئی افسر کا نام بھی دیا تھا جسے غیر جانبداری کے لئے بعد میں ہٹا لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں