جنرل عاصم منیرپاک آرمی کے نئے سربراہ مقرر، صدرعلوی نے منظوری دے دی

جنرل عاصم منیر اور جنرل ساحرشمشادمرزا کی وزیراعظم شہبازشریف اور صدرعارف علوی سے الگ الگ ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے صدرڈاکٹرعارف علوی نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی)کے عہدوں پرتقرر کے لیے وزیراعظم شہبازشریف کی نامزدگیوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں صدر کی منظوری کی تصدیق کی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت نے لیفٹیننٹ جنرل سیّد عاصم منیر کو فوری طور پر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے اورانھیں 29 نومبر 2022 سے چیف آف آرمی اسٹاف مقررکیا ہے۔وہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا نیا عہدہ سنبھالیں گے۔

صدر ڈاکٹرعارف علوی نے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو فوری طور پرجنرل کے عہدے پر ترقی دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقررکردیا ہے۔اس کا اطلاق 27 نومبر 2022 سے ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ترقیاں اور تقرر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 243 (4) (اے) اور (بی) اور آرٹیکل 48 (1) کے تحت کیے گئے ہیں اوراس سلسلے میں صدر مملکت نے آج اپنے دفتر میں وزیراعظم کی طرف سے موصول ہونے والی سمری پر دستخط کردیے ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کوجنرل کے عہدے پر ترقی دے کر چیف آف آرمی اسٹاف اورجنرل ساحرشمشاد مرزا کوجوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا چیئرمین مقررکرنے کی سفارش کی تھی۔ان کے تقرر کے بعد ملک میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری قیاس آرائیوں اور ہیجان خیزی کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔

پاک فوج کے نئے سربراہ جنرل عاصم منیر اور چئیرمین جوائنٹ چیفس اسٹاف کمیٹی جنرل ساحرشمشادمرزا نے اپنے تقررنامے کے اجراء کے بعد اسلام آباد میں وزیراعظم شہبازشریف اور صدر عارف علوی سے الگ الگ ملاقات کی ہے اور ان سے ملک کی قومی سلامتی اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ امورسے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے ۔صدر اوروزیراعظم نے انھیں نئے عہدوں پر فائز ہونے پر مبارک باد دی ہے۔

قبل ازیں اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ صدر عارف علوی نے حکومت کی جانب سے بھیجی گئی ایڈوائزری کی منظوری دے دی ہے۔ انھوں نے اسے 'نیک شگون' قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے سمری پر دست خط کردیے ہیں۔

وزیردفاع نے کہا کہ آرمی چیف کے تقررکے عمل سے ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی تھی لیکن اب یہ معاملہ خوش اسلوبی طے پا گیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ تمام لوگوں، خاص طور پر سیاست دانوں کو اپنے روّیوں کو قانون اور آئین کے دائرے میں لانا چاہیے۔

وزیراعظم کی جانب سے سمری موصول ہونے کے بعد صدرعارف جمعرات کی سہ پہرلاہور پہنچے۔ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ان کی زمان پارک میں واقع رہائش گاہ پر ملاقات کی جہاں وہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے مقیم ہیں۔

ان کی ملاقات کے بعد زمان پارک کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہ نما فوادچودھری نے مختصر بیان میں کہا کہ عمران خان اور عارف علوی نے آرمی چیف کے تقرر پرتبادلہ خیال کیا ہے اورصدر واپس اسلام آباد جائیں گے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ایک انٹر سروسز فورم ہے جو تینوں مسلح افواج کے مابین ہم آہنگی کے لیے کام کرتا ہے۔ سی جے سی ایس سی وزیراعظم اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے پرنسپل ملٹری ایڈوائزر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

دریں اثناء سبکدوش ہونے والے سی جے سی ایس سی جنرل ندیم رضا نے صدرعارف علوی اور وزیر اعظم شہباز شریف سے الوداعی ملاقاتیں کی ہیں۔ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدرمملکت نے قومی دفاع کے لیے جنرل ندیم رضا کی خدمات کو سراہا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہارکیا ہے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) نے جنرل رضا کی وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ویڈیو بھی ٹویٹ کی ہی ۔ وزیر اعظم نے ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے اور فوج کے لیے شاندار خدمات انجام دینے پرجنرل رضا کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں