جنرل باجوہ نے تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کا ساتھ دینے کا مشورہ دیا: مونس الٰہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مسلم لیگ ق کے رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے صاحبزادے مونس الہٰی نے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر تنقید کے معاملے پر کھل کر اختلاف کا اظہار کر دیا۔

مونس الہٰی نے ہم نیوز کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جنرل باجوہ کے خلاف موجودہ مہم غلط ہے، جنرل باجوہ نے پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا بلکہ انہوں نے تو تحریک عدم اعتماد کے وقت بھی مجھ سے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنرل باجوہ عدم اعتماد کا حصہ ہوتے تو ہمیں کیوں اس طرف جانے کا کہتے، جنرل باجوہ نے پی ٹی آئی کے لیے سب کچھ کیا اور اب جب وہ چلے گئے ہیں تو پی ٹی آئی والے ان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں ۔ جنرل باجوہ نے تو پی ٹی آئی کیلئے دریاؤں کا رُخ موڑ دیا تھا۔

مونس الٰہی نے کہا کہ عمران خان اگر کل اسمبلیاں تحلیل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں لیکن اگر ہمیں اس بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے تو ہم اگلا بجٹ پیش کر کے ہی تحلیل کرنا چاہیں گے۔

مونس الٰہی کا کہنا تھا کہ عدالتیں غیر جانبدار ہیں، پنجاب حکومت کے معاملات میں بھی اسٹیبلشمنٹ کوئی مداخلت نہیں کر رہی، نہ ہی عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار ہے۔

مونس الٰہی نے کہا کہ ہماری سیاسی رائے تو یہی ہے کہ کل ہی الیکشن ہو جائیں کیونکہ اس وقت مقبولیت خان صاحب کی مقبولیت عروج پر ہے لہٰذا اگر اس سے استفادہ کرنا ہے تو الیکشن تو کل ہی ہو جانے چاہئیں، اس سے اتحادیوں اور پی ٹی آئی دونوں کا فائدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کا مقصد بھی یہی تھا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ اور مسلم لیگ (ن) جکو پنجاب چاہیے تھا اور انہوں نے وفاق کے بارے میں سوچا ہی نہ تھا، اب وہی چیز ان کے گلے پڑ گئی ہے کیونکہ شہباز شریف صرف اسلام آباد کے وزیراعظم بن کر رہ گئے ہیں، باقی تو ان کی کہیں حکومت ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج نہیں لگ سکتا کیونکہ اس میں بہت سی قباحتیں ہیں، ان کو اسمبلی سے منظور کرانا پڑے گا اور پھر حتمی حکم تو صدر مملکت دیتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ سے روابط کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے نے کہا کہ ہمارا پاک فوج کی نئی کمان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا جبکہ عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر کے اندراج کے حوالے سے سابق اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہم پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر ایک طبقہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر بلاوجہ تنقید کر رہا ہے، یہ وہی باجوہ صاحب ہیں جنہوں نے دریا کا مکمل رخ پی ٹی آئی کے لیے موڑا ہوا تھا، تب وہ بالکل ٹھیک تھے اور آج وہ ٹھیک نہیں رہ گئے، تو جو بھی کوئی باجوہ صاحب کے خلاف بات کرتا ہے تو میرا اس چیز پر بہت اختلاف ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جب باجوہ صاحب آپ کی مکمل حمایت کر رہے تھے تو وہ بالکل ٹھیک تھے لیکن اب وہ غدار ہوگئے ہیں، میں نے تو پی ٹی آئی والوں سے کہا کہ ٹی وی پر آنا ہے تو آ جاؤ، تم مجھے ثابت کرو کہ وہ کیسے غدار ہیں، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس بندے نے تمہارے لیے کیا کچھ کیا ہے، میں نے تو دونوں طرف سے بھگتا ہے۔

مونس الٰہی نے کہا کہ میرے خیال میں یہ زیادتی ہو رہی ہے، اس میں تو کسی کو شک نہیں کہ ایک بندے نے آپ کی مکمل حمایت کی، کسی کو شک ہے تو میں اس کے شکوک دور کر دیتا ہوں، جب وہ آپ کی حمایت سے ہٹ گیا تو وہ برا ہو گیا، میں اس چیز کے خلاف ہوں، میری نظر میں تو وہ کبھی برے نہیں تھے۔

انہوں نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہ بندہ برا ہوتا ناں تو وہ کبھی بھی مجھے یہ نہ کہتا کہ آپ عمران خان کا ساتھ دیں، جس وقت فیصلہ ہو رہا تھا کہ ہمیں ادھر جانا ہے یا اُدھر جانا ہے تو ہمیں تحریک انصاف سے بھی آفر آ گئی تھی اور میاں صاحبان سے بھی آ گئی تھی، سب کو پتا ہے کہ میرا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف تھا تو والد صاحب سے اس پر مشاورت ہوئی تو اس وقت باجوہ صاحب نے کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ آپ تحریک انصاف کی طرف جائیں، اگر وہ بندہ برا ہوتا تو وہ اس اہم موڑ پر ہمیں کیوں کہتا کہ آپ تحریک انصاف کا ساتھ دیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پی ٹی آئی کو بہت غلط فہمیاں ہیں، اگر پی ٹی آئی میں کسی کو بھی یہ لگتا ہے کہ باجوہ صاحب کا 0.1فیصد قصور ہے تو وہ میرے ساتھ بیٹھے تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ ان کا قصور کہاں نہیں ہے، انہوں نے بہت زیادہ فیور کیا، کئی مواقع پر مسئلے کھڑے ہو گئے تھے تو وہ ذاتی طور پر ملک میں اور بیرون جا کر مسئلے حل کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں