وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد، گورنرکی اعتماد کاووٹ لینے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کےارکان نے پیر کی شب پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پنجاب اورخیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے منصوبے سے چند روز قبل پنجاب میں حزب اختلاف کی دونوں جماعتیں تحریک عدم اعتمادلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ عمران نذیر، مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ طاہرخلیل سندھو اور دیگر سمیت اپوزیشن ارکان نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں رات 9 بج کر 35 منٹ پر تحریک عدم اعتماد جمع کروائی۔

اس میں کہاگیا ہے کہ ’’پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان صوبائی اسمبلی کے نزدیک وزیراعلیٰ پرویزالٰہی آئین کے مطابق ایوان کی قیادت کرنےکی صلاحیت کھوبیٹھے ہیں اور انھیں اسمبلی کی اکثریت کااعتماد حاصل نہیں رہاہے‘‘۔

اس میں مزیدکہا گیا ہے کہ پرویزالٰہی نے’’جمہوری روایات کا قتلِ عام‘‘کیا ہے اور اس طرح وہ ایوان کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں‘‘۔

تحریکِ عدم اعتمادآئین کےآرٹیکل 136 اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی (پی اے پی) 1997 کے رولز آف پروسیجرکے قاعدہ 23 کے تحت پیش کی گئی ہے۔آرٹیکل 136 کے مطابق اسمبلی کی کل رکنیت کے کم سےکم بیس فی صد کی طرف سے پیش کردہ عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے ایک قرارداد صوبائی اسمبلی کی طرف سے وزیراعلیٰ کے خلاف منظورکی جا سکتی ہے۔

شق (1) میں مذکورقرارداد پرتین دن کی میعاد ختم ہونے سے پہلے یا سات دن سے کم وقت میں اس دن سے ووٹنگ نہیں کی جائے گی جس دن صوبائی اسمبلی میں ایسی قرارداد پیش کی جاتی ہے۔

اگر شق (1) میں مذکورقرارداد صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظورہو جاتی ہے تو وزیراعلیٰ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

علاوہ ازیں اسپیکرصوبائی اسمبلی سبطین خان کے خلاف بھی آئین کے آرٹیکل 53 کے تحت تحریک عدم اعتمادجمع کرائی گئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ عمران نذیر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ تحریک عدم اعتماد وزیراعلیٰ، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف جمع کرائی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس پر 150 کے قریب ارکان کے دست خط ہیں اورلاہور سے باہر سے مزید ارکان آرہے ہیں۔ہم نےآئینی ماہرین کی مشاورت کے بعدآئینی اور قانونی کارروائی کی گئی ہے اور ہم مکمل طورپرپُراعتماد ہیں۔

دریں اثناء وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے جیونیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ اگرکوئی وزیراعلیٰ اسمبلی تحلیل کرنا چاہتا ہے تواس کے لیے اس کو اسمبلی کا اعتماد حاصل ہونا ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہےآج گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اسمبلی تحلیل کرنے سے قبل اعتماد کا ووٹ لینے کا مشورہ بھیجا اور پھر تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہے۔لہٰذا وزیراعلیٰ عدم اعتماد کا ووٹ لیے بغیر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے۔


پرویزالٰہی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ

قرارداد جمع کرانے کے فوری بعد گورنرپنجاب بلیغ الرحمٰن نے پرویزالٰہی کو ہدایت کی کہ وہ 21 دسمبر کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ٹویٹر پرشیئر کیے گئے ایک حکم نامے میں گورنرپنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنی پارٹی کے صدر چودھری شجاعت حسین اور مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے اپنی ہی جماعت کے ارکان کا اعتماد کھوچکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چندہفتوں کے دوران پنجاب اسمبلی میں حکمران اتحاد کی دو اتحادی جماعتوں یعنی پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان سیاسی حکمت عملی، اسمبلی تحلیل کرنے، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری عہدے داروں کے تبادلوں کے حوالے سے شدید اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا اختلافات اس وقت واضح ہوئے جب پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے علم میں لائے بغیر پی ٹی آئی کے رکن خیال احمد کی صوبائی اسمبلی میں تعیناتی عمل میں آئی۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ "حکمران اتحاد کے مابین دراڑوں" کا تازہ ثبوت کابینہ کے ایک رکن کا استعفاہے۔اس کا پرویزالٰہی کے ساتھ ’’زبانی جھگڑا‘‘ ہوا تھا۔

وزیراعلیٰ نے 4 دسمبر کو ایک ٹی وی پروگرام میں کہاتھا کہ وہ مارچ 2023 تک صوبائی اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے،یہ ایک ایسا مؤقف ہے جواس معاملے پر پی ٹی آئی کی رائے سے مکمل طور پر متصادم ہے۔

حکم نامے میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ کے بارے میں عمران خان کے بیان پروزیر اعلیٰ الٰہی کی جانب سے اتوارکوایک انٹرویو میں عمران خان پرتنقید کا بھی حوالہ دیا گیا۔

ان حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے گورنربلیغ الرحمٰن نے کہ پرویزالٰہی کوپنجاب اسمبلی کا اعتماد حاصل نہیں۔اس کے بعدانھوں نے الٰہی کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے آئین کی دفعہ 130 (7) کے تحت 21 دسمبرکو شام 4 بجے اجلاس طلب کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں