بنوں:سی ٹی ڈی مرکزمیں فوجی کارروائی مکمل،تمام دہشت گرد ہلاک،2 ایس ایس جی کمانڈوزشہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے بنوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے مرکز پرحملہ کرنے والے تمام دہشت گردوں کو جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا ہے۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے منگل کے روزقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں 33 دہشت گرد زیر حراست تھے۔ان میں سے ایک وہاں ایک ملازم کے سرپراینٹ مارنے کے بعد اس سے بندوق چھیننے میں کامیاب ہوگیاتھا۔

وزیردفاع نے بتایاکہ فوج کے اسپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) کے ایک یونٹ نے آپریشن کیا، جس میں اس کے 10-15 کمانڈوز زخمی ہوئے ہیں اور دو شہید ہوئے ہیں۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ’’اسپیشل سروس گروپ نے یہ کارروائی 20 دسمبرکو دوپہر 12 بج کر 30 منٹ پر شروع کی تھی اور تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے‘‘۔

وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس واقعے کو خیبر پختونخوا حکومت کا مکمل خاتمہ قرار دیا۔انھوں نے کہا:’’اس میں بدقسمتی پہلو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات دوسرے صوبوں میں بھی ہوئے ہیں لیکن اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ سرحد پار یا مقامی طور پردہشت گرد مذکورہ دونوں صوبوں میں دوبارہ سر اٹھارہے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان 33 مشتبہ افراد کو اس صورت حال کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا متعدد گروپوں سے تعلق تھا۔خیبرپختونخوا کی حکومت سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ ٹیک اوورکے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

خواجہ آصف نے کامیاب کارروائی کاسہرا فوج کے سرباندھا ہے اورکہا کہ اس میں صوبائی حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ یہ وہاں کی صوبائی حکومت کی ناکامی ہے اور کے پی حکومت کا مکمل خاتمہ ہے۔

دریں اثناء انٹرسروسزپبلک ریلیشنز(آئی ایس پی آر) نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ آپریشن کی تفصیل جلد شیئر کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اتوار کی رات دیر گئے سی ٹی ڈی سنٹر میں موجود جنگجوؤں نے عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا اور قانون نافذ کرنے والے متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی تھی اس میں افغانستان تک محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج میں سی ٹی ڈی کے احاطے سے فضا میں دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔مقامی لوگوں نے مرکز کے آس پاس سے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔

اس واقعہ سے چند روز قبل ہی بنوں ڈویژن کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے اورپیر کے روز پشاور میں انٹیلی جنس بیورو کے ایک سب انسپکٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ شمالی وزیرستان میں ایک خودکش حملے میں ایک فوجی اور دو شہری شہیدہو گئے تھے۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں یکے بعد دیگرے ہونے والے بم دھماکوں میں 20 افراد زخمی ہوئے۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کر لی

کالعدم ٹی ٹی پی نے سی ٹی ڈی کےکمپاؤنڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔اس نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے ارکان نے سی ٹی ڈی پرحملہ کیا اوروہاں سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنایا ہے۔

اس کالعدم گروپ کے ترجمان نے کہا کہ اس سے قبل ایک ویڈیو بیان میں یرغمالیوں نے محفوظ انخلا کا مطالبہ کیاتھا لیکن غلطی سے افغانستان کا ذکرکیا کیونکہ وہ زمینی حقائق سے آگاہ نہیں تھے۔

سی ٹی ڈی سنٹرپر قابض جنگجوؤں نے گذشتہ روز متعدد ویڈیوز بھی جاری کی تھیں۔ان میں بنوں کے عوام، خاص طور پرعلماءکرام سے کہاگیا تھا کہ وہ آگے آئیں اورعسکریت پسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعطل کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

ایک ویڈیو کلپ میں ایک قیدی نے خود کو’بے گناہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان جنگجوؤں نے یرغمال اہلکاروں کے ساتھ کمپاؤنڈ کے اندرکئی بے گناہ لوگوں کو بھی بند کررکھا ہے۔ایک اور ویڈیو کلپ میں کئی مسلح جنگجوؤں کو کمپاؤنڈ کے اندرگھومتے اور پوزیشنیں لیتے ہوئے دیکھا جا کتا ہے۔

بنوں میں سی ٹی ڈی سنٹرسے جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویڈیو میں نظرآنے والے افرادمیں سے ایک کی شناخت کمانڈرضرار کے نام سے ہوئی ہے جو زیرحراست تھا۔ ضرار نے اپنے گروپ کو ٹی ٹی پی میں ضم کر دیا تھا اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ سی ٹی ڈی مرکز میں کیا کررہا تھا حالانکہ وہ جنوری 2022 سے حراست میں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں