اسلام آباد کے سیکٹر آئی۔10 میں خود کش دھماکا، پولیس اہلکار شہید

پولیس نے بروقت کارروائی کر کے اسلام آباد کو بڑی تباہی سے بچا لیا: ڈی آئی جی آپریشنز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر آئی ٹین فور میں جمعہ کی صبح دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں ہائی الرٹ کی وجہ سے چیکنگ چل رہی تھی اور اس دوران پولیس اہلکاروں نے مشکوک گاڑی کو چیکنگ کے لیے روکا۔

انہوں نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ گاڑی رکتے ہی خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل عدیل حسین شہید ہو گیا۔

اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صبح سوا دس بجے ایک مشکوک ٹیکسی آ رہی تھی جس میں ایک مرد اور ایک عورت سوار تھی، پولیس کے ایگل اسکواڈ نے مشکوک سمجھتے ہوئے انہیں روکا اور ان کی تلاشی لی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی مشکوک افراد کی جامع تلاشی جاری تھی کہ ایک لمبے بالوں والا لڑکا واپس گاڑی میں آیا اور اس نے گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے دہشت گردی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو ان کی بہادری پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان اہلکاروں نے دارالحکومت کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی میں ایک مرد اور ایک عورت سوار تھی جن کے جسم کے اعضا ہم نے اکٹھا کر لیے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پولیس اہلکار نے گاڑی کا دروازہ کھول کر رکھا ہوا تھا اور ان مشکوک افراد کو گاڑی کے اندر سے جانے سے روک رہا تھا لیکن لمبے بالوں والے شخص نے گاڑی کے اندر مکمل داخل ہوئے بغیر ہی ایک بٹن دبایا جس سے دھماکا ہو گیا۔

ایک اور ٹوئٹ میں اسلام آباد ہولیس نے دھماکے کے سبب شہریوں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اس سے قبل دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی تھیں۔

دھماکے کے بعد حملہ آور کے اعضا جائے وقوع پر پھیل گئے جبکہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے کی شدت کی وجہ سے اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی اسلام آباد پولیس نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایگل اسکواڈ نے خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے بعد حفاظتی اقدام کے تحت 2ہزار سے زائد مشکوک افراد، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو چیک کیا۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شہر میں امن و امان یا دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہ ہو جبکہ شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور مشتبہ افراد کے بارے میں مطلع کریں۔

اس کے علاوہ پولیس نے اپنے ایک علیحدہ بیان میں کہا تھا کہ وہ کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور پولیس کی مدد کے لیے شہر میں ایف سی کو تعینات کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں