سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات برسوں پرانے ہیں: شہباز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی مملکت اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کئی دہائیوں پرانے ہیں۔ ہم اسلام کو سلامتی کا مذہب ثابت کرنے کے لئے خلیجی ملکوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

دبئی سے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ’’العربیہ‘‘ نیوز کو خصوصی انٹرویو میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد خلیجی ملکوں کے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔

بھارت سے تعلقات

وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا ’’کہ ان کے ملک نے بھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑیں ہیں جس کا نتیجہ غریب اور بے روزگاری کے سوا کچھ نہیں نکلا۔‘‘ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی ’’کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بنیادی نوعیت کے مسائل حل کر کے پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتا ہے۔‘‘

انہوں نے مشرقی یورپ میں کشیدہ صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس کے دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اسلام آباد چین اور امریکہ کے درمیان پل ہے۔

معاشی چیلنجز

میاں محمد شہباز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’’کہ پاکستان کو ان دنوں مشکل ترین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کرپشن کے معاملے میں ہماری پالیسی زیرو ٹالیرنس کی ہے۔‘‘

شہباز شریف کے بہ قول ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک قیادت میں سعودی عرب روز بروز ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔

میاں شہباز شریف سعودی عرب کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ رواں مہینے کے دوران سعودی ولی عہد نے پاکستان میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

گذشتہ سوموار کو سعودی عرب سمیت دنیا کے بڑے ملکوں نے پاکستان کو سیلاب سے پہنچنے والے نقصانات کے ازالے میں مدد کی خاطر نو ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا۔ اس امداد کا اعلان اقوام متحدہ اور پاکستان کے تعاون سے جنیوا میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے موقع پر کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں