الیکشن کمیشن کے ارکان کو دھمکانے کی پاداش میں فواد چوہدری گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری کو بدھ کی صبح لاہور سے گرفتار کر لیا ہے۔

فواد چوہدری کے خلاف الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کی مدعیت میں منگل کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مذکورہ مقدمے پر کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے فواد چوہدری کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی پولیس لاہور میں راہداری ریمانڈ حاصل کر کے فواد چوہدری کو اسلام آباد منتقل کرے گی۔

پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے فواد چوہدری کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رہنما پی ٹی آئی زمان پارک میں عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے خدشے کے پیشِ نظر کارکنان کے ہمراہ زمان پارک میں موجود تھے اور وہاں سے گھر واپسی کے موقع پر پولیس اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں نے انہیں گرفتار کر لیا۔

فرخ حبیب کے مطابق پولیس اہلکاروں نے فواد چوہدری کے ڈرائیور سے گاڑی کی چابی بھی چھین لی جس کے بعد ٹھوکر نیاز بیگ کے راستے فواد چوہدری کو شہر سے باہر لے جایا گیا ہے۔


فواد چوہدری کے خلاف مقدمہ درج کیوں ہوا؟

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کی جانب سے درج مقدمے میں فواد چوہدری کے ایک حالیہ بیان کو وجہ بنایا گیا ہے۔

فواد چوہدری نے چند روز قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر زیادتیوں کا سلسلہ جاری رہا تو انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

مقدمے کے متن میں تحریر ہے کہ فواد چوہدری نے کہا تھا " الیکشن کمیشن کی حیثیت ایک منشی کی سی ہوگئی ہے اور جو لوگ نگراں حکومت میں لگ رہے ہیں ان کا سزا ہونے تک پیچھا کریں گے۔"

فواد چوہدری کے خلاف درج مقدمے میں غداری کی دفعہ 124اے بھی شامل ہے جس کی سزا عمر قید ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں