لاشوں کی سیاست اور پولیس کے سڑکوں پر احتجاج سے گریز کیا جائے: آئی جی کے پی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ ہم دہشت گرد نیٹ ورک کے نزدیک ہیں اور سانحہ پشاور میں ملوث خودکش بمبار کی شناخت بھی کرلی ہے جو پولیس کی وردی میں ملبوس تھا۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معظم جاہ انصاری نے کہا کہ میں بطور آئی جی، میرے افسران اور میرے جوان بھی اس وقت تکلیف میں ہیں، گزارش کروں گا کہ ہماری تکلیف میں اضافہ نہ کیا جائے، ہمیں سمجھا جائے، ہم بھی حساس لوگ ہیں۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا ’’کہ سازشی تھیوریوں کے ذریعے میرے جوانوں کو گمراہ کرنا اور انہیں سڑکوں پر لے کر آنا میں کسی صورت برداشت نہیں کروں گا، سازشی تھیوری پیش کی گئی کہ ڈرون حملہ کیا گیا، کوئی آئی ای ڈی پھٹنے کا دعویٰ کررہا ہے، یہ سب فضول باتیں ہیں، یہاں ہر بندہ سائنسدان بنا ہوا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا ’’کہ سوال کیا جارہا ہے کہ خودکش دھماکے میں اتنی شہادتیں کیسے ہوسکتی ہیں جبکہ زیادہ شہادتیں مسجد کی چھت گرنے کی وجہ سے ہوئیں، ہمیں سی سی ٹی فوٹیج بھی مل گئی ہے، ابھی ہزاروں موبائل فونز کی جیو فینسنگ کرنی ہے۔‘‘

انہوں نے انکشاف کیا کہ دھماکے میں 10 سے 12 کلو گرام تک انتہائی دھماکہ خیز مواد ’ٹرائنیٹروٹولین‘ استعمال کیا گیا تھا، ٹرائنیٹروٹولین دھماکوں سے پیدا ہونے والی دھمک کی لہروں کو پھیلنے کی جگہ نہیں ملتی، زیادہ تعداد میں شہادتوں کی یہی وجہ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ایک ایک شہید کا بدلہ لیں گے، قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ہم اس دہشت گرد نیٹ ورک کے نزدیک ہیں جو ہماری اتنی شہادتوں کی وجہ بنا، جنہوں نے اس ملک کے امن کو خراب کیا، جنہوں نے خیبرپخونخوا پولیس کے ساتھ ظلم کیا۔

معظم جاہ انصاری نے دعویٰ کیا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے اور اب دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے قریب ہیں۔ دہشت گرد اکیلا نہیں تھا بلکہ پیچھے پورا نیٹ ورک تھا، خود کش حملہ آور کو ہدف دیا گیا جوکہ 12 بجکر 36 منٹ پر پولیس لائنز میں داخل ہوا۔ خودکش حملہ آور پولیس یونیفارم میں موٹر سائیکل پر آیا جس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا، موٹر سائیکل پر انجن اور چیسز نمبر جعلی تھا۔ موٹر سائیکل کو ڈرامہ کر کے سائیڈ پر لے کر گیا اور اس نے پولیس لائنز پہنچ کر حوالدار سے پوچھا مسجد کہاں ہے۔

  مبینہ دہشت گرد موٹر سائیکل پر پولیس لائنز پہنچا: سکرین گریب فوٹو کے پی کے پولیس
مبینہ دہشت گرد موٹر سائیکل پر پولیس لائنز پہنچا: سکرین گریب فوٹو کے پی کے پولیس

آئی جی نے کہا کہ آج 3 روز گزر گئے، ان 3 روز میں شاید میں صرف 3 گھنٹے ہی سویا ہوں گا کیونکہ میرے پاس بہت کام ہے، جب آپ کو لاکھوں لوگوں کا ذمہ دار بنایا جاتا ہے تو آپ کو وقت ملنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 5 سے 10 ہزار ٹیلی فونز کی جیو فینسنگ کر رہے ہیں البتہ 24 گھنٹے کی فوٹیجز دیکھنے کے لیے ایک دن چاہیے۔

آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ جو بات کہوں گا اس پر کھڑا ہوں گا، واقعہ میری کوتاہی ہے سپاہیوں کی نہیں تھی، صوبے کے لوگوں کے سامنے ملزمان کو لاؤں گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں