مدرس کی سرزنش سے دلبرداشتہ بچہ گھر واپسی پر والد کے تشدد سے جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

راولپنڈی میں مبینہ طور پر قاری کے تشدد سے خوفزدہ معصوم بچہ مدرسے سے بھاگ گیا جس کو گھر آنے پر باپ نے تشدد سے ہلاک کر دیا ہے۔

تھانہ وارث خان کے علاقہ ڈھوک کھبہ میں والد کے تشدد سے بچے کے مرنے پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعہ کی ایف آئی آر میں پولیس نے قتل کی دفعات درج کی ہیں۔

مقتول بچے کی والدہ کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق نو سالہ درویش کی لاش کا پوسٹمارٹم ڈی ایچ کیو میں مکمل کرنے کے بعد لاش رشتہ داروں کے حوالے کر دی گئی۔مقتول بچے کی والدہ زینت نے پولیس کے بتایا کہ مدرسے سے بھاگ کر گھر آنے پر خاوند بشیر خان نے بچے پر دو دن قبل ڈنڈے سے تشدد کیا تھا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق تشدد کے باعث نو سالہ بیٹے درویش کی طبعیت خراب ہوئی جو ٹھیک نہ ہوا۔ ماں نے بتایا کہ بچے کی طبعیت زیادہ خراب ہونے پر سنیچر کی دوپہر سپتال منتقل کیا گیا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

پولیس نے بشیرخان نامی سفاک باپ کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا۔ بشیر خان کے دس بچے ہیں جن میں سے سات بیٹیاں ہیں اور وہ گلاس فیکٹری میں خراد کا کام کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں