وزیراعظم کا کفایت شعاری اقدامات کااعلان؛وفاقی کابینہ تن خواہوں،مراعات سے دستبردار

جون 2024 تک لگژری اشیاء اورہرقسم کی نئی گاڑیاں خریدنے پر مکمل پابندی عاید،وزراء یوٹیلٹی بل خود ادا کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستا کو درپیش معاشی زبوں حالی سے نمٹنے کے کفایت شعاری کے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت ان کی کابینہ اپنی تن خواہوں اوردیگرمراعات سے دستبردار ہوگئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

میاں شہبازشریف نے بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے ارکان کے ساتھ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزرا، وزرائے مملکت اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی نے رضاکارانہ طورپر اپنی تن خواہوں اور مراعات سے دستبردار ہورنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب تمام وزراء اپنے ٹیلی فون، بجلی، پانی اور گیس کے بل خود ادا کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ کابینہ ارکان کے زیراستعمال تمام لگژری گاڑیاں واپس لی جا رہی ہیں اور ان کی نیلامی کی جائے گی۔جہاں ضرورت ہو گی، وہاں وزراء کو سکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی مہیا کی جائے گی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی وزراء اندرون ملک یا بیرون ملک سفرکے لیے اب اکانومی کلاس استعمال کریں گے۔معاون عملہ کواب سرکاری دوروں پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کابینہ ارکان غیر ملکی دوروں میں فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام نہیں کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وزارتوں، محکموں اور ذیلی محکموں کے موجودہ اخراجات میں 15 فی صد کمی کی جائے گی۔متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسراس فیصلے کی روشنی میں اپنے بجٹ میں ضروری تبدیلیاں کریں گے۔جون 2024 تک لگژری اشیاء کی خریداری پرمکمل پابندی رہے گی۔اگلے سال جون تک ہرقسم کی نئی گاڑیاں خریدنے پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ سرکاری افسروں کو صرف ’’لازمی دورے‘‘کرنے کی اجازت ہوگی۔نیز وزارتوں کے سینیرافسروں کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کو واپس لے لیا جائے گا۔نیز اب سرکاری افسروں کو سکیورٹی کی گاڑیاں بھی نہیں دی جائیں گی۔ وزیرداخلہ کے زیرنگرانی ایک کمیٹی صورت حال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس ٹو کیس کی بنیاد پرسکیورٹی گاڑیاں مہیّاکرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرے گی۔

انھوں نے زور دے کرکہا کہ کابینہ کا کوئی بھی رکن یا سرکاری افسرلگژری گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ سفری اخراجات کو کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی سطح پرکوئی نیا محکمہ نہیں بنایا جائے گا۔ اگلے دو سال تک کوئی نیا انتظامی یونٹ، ڈویژن یا سب ڈویژن تشکیل نہیں دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایک "سنگل ٹریژری اکاؤنٹ" قائم کیا جائے گا اوروزارت خزانہ نے اس سلسلے میں کام شروع کر دیا ہے۔گیس اور بجلی کی بچت کے لیے موسم گرما میں صبح ساڑھے سات بجے دفاتر کھولنے کا مشورہ قبول کر لیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ایک سے زیادہ پلاٹ الاٹ نہیں کیا جائے گا،اس پر کل سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ برطانوی دورکے کئی ایکڑ پر محیط سرکاری مکانات ہیں جہاں،اعلیٰ انتظامی عہدے دار اور پولیس افسراور وزراء رہائش پذیرہیں جبکہ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے سورہے ہیں۔وزیرقانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس زمین پر ٹاؤن ہاؤسز کی تعمیر کے منصوبے کا مسودہ تیار کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ کھانے کے حوالے سے سرکاری تقریبات میں صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی۔اسلام آباد کی تمام وزارتوں، وزیراعظم ہاؤس اوروفاقی کابینہ میں صرف ایک ڈش ہوگی۔ اگر یہ چائے کا وقت ہے، تو صرف چائے اور بسکٹ پیش کیے جائیں گے۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس پابندی کا اطلاق غیر ملکی مہمانوں اور معززین پر نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا اورنئے مالی سال کے بجٹ کے وقت "اضافی اقدامات" کیے جائیں گے۔

وفاقی کابینہ اور میں چیف جسٹس آف پاکستان،چاروں صوبوں کی عدالتوں اور وزرائے اعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے اداروں اور حکومتوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات پر عمل درآمد کریں۔

حکومت کے توانائی کے تحفظ کے منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ آج سے ہم مرکز اور صوبوں کو یہ پیغام دیں گے کہ اگر اس پرعمل درآمد میں مزید تاخیر ہوئی تو ہم بڑی مارکیٹوں اورخریداری مالوں میں بجلی کی ترسیل منقطع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے محکمہ توشہ خانہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کو بھی 300 ڈالر سے زیادہ مالیت کے سرکاری تحائف رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی اعلان کیا کہ توشہ خانہ ریکارڈ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ ایک عوامی ریکارڈ ہے۔ہرایک کو اس کے بارے میں جاننے اورپوچھنے کا حق ہے۔ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات سے سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات

پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے منی بجٹ منظور کیا ہے جس کے تحت بڑی کارپوریشنوں پر نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو 'کسی حد تک' مہنگائی سے بچایا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاملات "آخری مرحلے" میں ہیں اور امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور یہ معاملات چند دنوں میں حل ہوجائیں گے لیکن اس سے مزید مہنگائی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی قریباً تمام شرائط پوری کر دی ہیں۔

انھوں نے آئی ایم ایف معاہدے کے بعد آنے والے وقت میں مشکلات کا اندازہ لگاتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ حکومت اس دوران میں ملک کی رہنمائی کرے گی۔

اس سے قبل وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے مقابلے میں صرف ایک یا دو چیزیں باقی رہ گئی ہیں اور پاکستان جلد ہی عالمی قرض دہندہ کے ساتھ معاہدہ کرے گا۔

انھوں نے ملک کی معاشی بدحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں مراعات یافتہ افراد کی قربانیوں کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ حکومتی مشینری کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں سیاسی چہرہ اور افسرشاہی کا چہرہ شامل ہے اور صوبائی حکومتوں کے تمام ارکان اس انتہائی مشکل وقت میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کریں جس کی اشد ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ درآمدی افراط زر، آئی ایم ایف کی شرائط اور سابقہ حکومت کے اقدامات سمیت مختلف وجوہ کی بناپرملک کو اس وقت معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

وزیراعظم نے قوم پر زور دیا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کریں۔انھوں نے کہا کہ قوم حکومت کی طرف تنقیدی اور سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی ہے اور تسلیم کیا کہ یہ نہ تو آسان ہے اور نہ ہی مذاق ہے کہ موجودہ حکومت فیصلے کرنے میں ایک ساتھ کھڑی ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کوشش کررہی ہے لیکن عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ 'ذاتی مثال سے قیادت' اوراب اسے دکھانے کا وقت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں آج کھڑے ہو کر چیلنج کو قبول کرنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط قوم ہے اور حکومت ان چیلنجوں کے مقابلے میں ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے۔

انھوں نے اس بات کا اعتراف کیاکہ تنگ دستی اور سادگی کے اقدامات سے افراط زر کا بوجھ کم نہیں ہوگا لیکن ان سے کم سے کم اس ناراضی کو کم کیا جاسکے گا جوگذشتہ 75 سال سے جو کچھ ہو رہا ہے،اس کی وجہ سے لوگوں کے اندرپائی جاتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات سے عوام کو احساس ہوگا کہ حکومت، سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے دل کی گہرائیوں سے قربانی کا جذبہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔آج وقت آگیا ہے کہ آپ کھڑے ہوں اور اس چیلنج کو قبول کریں اور خدا کے نام پر، پاکستان کے نام پر ایسا کریں۔آئیے اس میں تاخیر نہ کریں اور اپنی خوش حالی کو شرمندہ نہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں