پاکستان کے7 ارب ڈالر کے قرضے؛کیا دیوالہ نکلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

معاشی مشکلات کا شکار پاکستان جون تک اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جس کے پیش نظر بانڈ ہولڈرز پاکستان کی جانب سے ممکنہ ڈیفالٹ کی تیاری کررہے ہیں۔

فچ ریٹنگز کے مطابق اگلے سال ملک میں واجب الادا ڈالر بانڈزجمعرات کو نومبر کے بعد سے کم ترین سطح پرآ گئے ہیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے آنے والے مہینوں میں 7 ارب ڈالر کی ادائی کی صلاحیت کا بوجھ اٹھایا ہے،جس میں مارچ میں واجب الادا چین کا 2 ارب ڈالر کا قرض بھی شامل ہے۔ایک ڈالر کے مقابلے میں روپیہ پانچ فی صد گرکر280 روپے پر آگیا ہے۔

موڈیز انویسٹرز سروس نے رواں ہفتے پاکستان کی کریڈٹ درجہ بندی مزید کم کردی تھی اور اس کواس وقت بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے، زرمبادلہ کے ذخائرسکڑ چکے ہیں اور افراط زربلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔پاکستان میں حکام ممکنہ دیوالہ نکلنے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے امدادی قرضے پرانحصارکررہے ہیں۔

لندن سے تعلق رکھنے والے ظہورپذیرمارکیٹ کے خودمختار قرضوں کے سربراہ ایڈون گوٹیریز نے کہا کہ "ڈیفالٹ کا خطرہ یقینی طور پر زیادہ ہے کیونکہ فنڈ کے ساتھ مذاکرات توقع سے زیادہ عرصے تک جاری رہتے ہیں توذخائر غیریقینی سطح تک کم ہورہے ہیں۔

آیندہ سال اپریل میں پاکستان کے 8.25 فی صد بانڈز ڈالر کے مقابلے میں 1.4 سینٹ سستا ہوکر 51.62 سینٹ رہ گئے۔ موڈیز نے بدھ کے روز ایک نوٹ میں کہا ہے کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے لیے ملک کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کا تخمینہ قریباً 11 ارب ڈالرلگایا گیا ہے، جس میں بیرونی قرضوں کی ادائی کے لیے درکار7 ارب ڈالر شامل ہیں۔

گریس لیم کی سربراہی میں موڈیز کے تجزیہ کاروں نے منگل کوایک بیان میں کہا کہ ادائی کے توازن کی موجودہ انتہائی نازک صورت حال میں ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ادائیگیوں کو بروقت محفوظ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

دریں اثنا وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کو فروری میں چین کے ترقیاتی بینک سے 70 کروڑ ڈالر قرض کی سہولت ملی ہے۔

چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے آئی ایم ایف کے سربراہ کو بتایا کہ چین کثیرالجہت کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے تاکہ بھاری مقروض ممالک کی تعمیری انداز میں مدد کی جا سکے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا چین پاکستان کے ذمے واجب الادا اپنے قرضوں کو واپس لے گا تو انھوں نے کہا کہ وہ تمام قرض دہندگان سے پاکستان کے بارے میں تعمیری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ترجمان ماؤ ننگ نے جمعرات کے روز ایک باقاعدہ بریفنگ میں کہا:’’مغربی قیادت والے تجارتی قرض دہندگان اورکثیرالجہت مالیاتی ادارے ترقی پذیرممالک کے بنیادی قرض دہندگان ہیں،لہٰذا چین پاکستان کی اقتصادی اورسماجی ترقی پر تعمیری کردارادا کرنے کے لیے تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں پرزوردیتا ہے‘‘۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسی ہفتے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ آیندہ چند دنوں میں معاہدہ ہوسکتا ہے لیکن آئی ایم ایف کے حکام سے کئی ادوار کی بات چیت کے باوجود اس معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں