غلط فیصلے ہر ایک کرتا ہے مجھ سے بھی ہوئے ہوں گے: ثاقب نثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

’’میں بھی انسان ہوں، مجھ سے بھی کچھ غلط فیصلے ہوئے ہوں گے، وہ فیصلے جن پر مجھے ندامت ہے یا جو مجھ سے غلط ہوئے، وہ معاملات جب عدالت میں آئیں گے تب دیکھیں گے، لیکن ایک عدالت اللہ کی بھی ہے۔‘‘

ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے صحافی و اینکر پرسن عادل شاہ زیب سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ گفتگو کے مندرجات پر مبنی مختصر نیوز رپورٹ معاصر ڈان نیوز نے اپنی ویب گاہ پر پیر کے روز شائع کی۔

سابق چیف جسٹس نے بتایا کہ ان کا وٹس ایپ ہیک ہو چکا ہے جس کا مواد استعمال کر کے جعلی آڈیوز بنانے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو مکمل اور تمام معاملات پر صادق وامین قرار نہیں دیا تھا۔

ثاقب نثار نے کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید دعا سلام بھجواتے ہیں لیکن ان کا عمران خان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

گفتگو کے دوران جب سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ سے سوال کیا گیا کہ پانامہ کیس میں آپ پر سابق وزیراعظم اور قائد مسلم لیگ (ن) نوازشریف کو نااہل کروانے کے لیے جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے دباؤ ڈالا؟ تو انہوں نے جواب دیاکہ فیض حمید کون ہے جو مجھ پر دباؤ ڈالتا؟

انہوں نے کہا کہ میں ابھی سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ سے اس دعوے کے بارے میں بات کروں گا، یہ کہتے ہیں کہ میں عمران خان کے لیے عدلیہ میں لابنگ کر رہا ہوں، میں کیوں ان کے لیے لابنگ کروں گا، مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔

سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہےکہ عمران خان کو مکمل اور تمام معاملات پر صادق وامین قرار نہیں دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میرے سامنے زیر سماعت جو مقدمہ تھا، میں نے انہیں اس کیس میں صادق وامین قرار دیا تھا، عمران خان کے باقی معاملات کا مجھے کچھ نہیں پتا تو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ مکمل طور پر صادق وامین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں