توشہ خانہ کاریکارڈ جاری،عمران خان 10 کروڑ9 لاکھ روپے مالیت کے قیمتی تحائف لے گئے

پرویز مشرف سمیت سابق صدور، نوازشریف دیگرسابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسربیش قیمت تحائف اڑانے والوں میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پاکستان کی وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 تک کا 466 صفحات پر مشتمل ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پرکابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پرجاری کردہ ریکارڈ کے مطابق تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسروں کے نام شامل ہیں۔

ریکارڈ کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف، سابق وزراء اعظم شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، نوازشریف، راجا پرویز اشرف اور عمران خان سمیت دیگرنے توشہ خانہ میں معمولی رقم ادا کرکے بیش قیمت تحائف وصول کیے تھے۔ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدرعارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

وزراء اعظم کے علاوہ وفاقی وزراء، اعلیٰ حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی پبلک کیا گیا ہے۔ کم مالیت کے بیشتر تحائف وصول کنندگان نے قانون کے مطابق کوئی رقم ادا کیے بغیر ہی رکھ لیے کیونکہ 2022 میں دس ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائی کے رکھنے کا قانون تھا۔ علاوہ ازیں دس ہزارسے چار لاکھ روپے تک کے تحائف پندرہ فی صد رقم ادا کرنے پررکھنے کی اجازت تھی جبکہ چار لاکھ سے زیادہ مالیت کے تحائف صرف صدر یا حکومتی سربراہان کو رکھنے کی اجازت تھی۔

سابق صدر(ر) جنرل پرویز مشرف

ریکارڈ کے مطابق 2004 میں سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، 2005ءمیں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والی ایک گھڑی کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی گئی۔انھیں مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اورزیورات کے بکس ملے جو انھوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔

سابق صدر کی اہلیہ بیگم صہبا مشروف کو چھ اپریل 2006 کو ساڑھے سولہ لاکھ روپے کے تحائف ملے۔ یکم اگست 2007ء کو بیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ تین اپریل 2007ء کوبیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی قیمت ایک کروڑ 48 لاکھ روپے لگائی گئی جبکہ 31 جنوری 2007 کوجنرل پرویز مشرف کو چودہ لاکھ روپے کے تحائف ملے۔

شوکت عزیز

سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو 2005ء میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو تین لاکھ پچپن ہزارمیں نیلام ہوئی جبکہ انھوں نے سیکڑوں تحائف دس ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائی رکھ لیے تھے۔

شوکت عزیز کو27 ستمبر 2007 کو ملنے والی ایک اور گھڑی کی قیمت ساڑھے تیرہ لاکھ روپے لگائی گئی، 20 دسمبر2006ء کو شوکت عزیز کو37 لاکھ 64 ہزار روپے کے تحائف ملے ۔وہ انھوں نے رکھ لیے تھے جبکہ 2006 میں انھوں نے ملنے والے کئی تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔

اس کے علاوہ شوکت عزیز کو 2 جون 2006 کو ساڑھے تیرہ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی ملی جبکہ 7 جنوری 2006 کو سابق وزیراعظم کو18 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔24 فروری 2010ء کو شوکت ترین نے بارہ لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی تھی۔

ظفراللہ خان جمالی

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیراعظم ہاؤس میں رکھوا دیا تھاجبکہ ان کے دور میں جنرل (ر) پرویزمشرف کی اہلیہ کو2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 2634387 روپے لگائی گئی۔

آصف علی زرداری

ریکارڈ کے مطابق دودسمبر2008ء کو سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ادائی کرکے خود رکھ لی جبکہ چھبیس جنوری2009 کو سابق صدرزرداری کو دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں ملیں جن کی مالیت پانچ کروڑ 78 لاکھ اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔

آصف زرداری نے تینوں گاڑیاں دو کروڑ دو لاکھ روپے ادا کر کے خود رکھ لیں۔ اٹھائیس اکتوبر2011 کو آصف زرداری نے سولہ لاکھ پندرہ ہزار کے تحائف رکھ لیے جبکہ 11 مارچ 2011ء کو آصف زرداری کوملنے والے تحائف کی مالیت دس لاکھ روپے سے زائد لگائی گئی،13جون 2011ء کو سولہ لاکھ مالیت کے تحائف ادائی کر کے رکھ لیے۔ اس کے علاوہ 15 اگست 2011ء کو آصف زرداری نے 847,000 روپے کے تحائف خود رکھ لیے تھے۔

یوسف رضا گیلانی

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو 23 دسمبر2009 کو خانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں ملا جو انھوں نے چھ ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیا۔انھوں نے21 لاکھ روپے ادا کرکے زیورات کا باکس رکھ لیا۔یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹرنے بھی تحفے میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔ سترہ اکتوبر2011 کو یوسف رضاگیلانی نے انیس لاکھ روپے کے تحائف خود رکھ لیے۔

نواز شریف

میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 4,255,919 روپے لگائی گئی تھی، بیس اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار 636,888 روپے ادا کر کے رکھ لی۔

شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کو پندرہ جولائی 2009 میں جتنے بھی تحائف ملے وہ انھوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیے۔ دس جون 2010ءکوسابق وزیراعلی شہبازشریف نے چالیس ہزار کی پینٹنگز توشہ خانہ میں جمع کروائیں۔

شاہد خاقان عباسی

ریکارڈ کے مطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑپچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادرعباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انھوں نے 33 لاکھ 95 ہزارروپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

ریکارڈ کے مطابق 2018ء میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ 2018ء ہی میں وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر وسیم کوبیس لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انھوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کو سال 2018 میں قیمتی تحائف موصول ہوئے۔ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2018 میں عمران خان کو 10 کروڑ 9 لاکھ روپے کے قیمتی تحائف موصول ہوئے، جن میں 8 کروڑپچاس لاکھ کی گھڑی تھی جو 18 قیراط سونے کی بنی تھی۔انھوں نے 2 کروڑ 1 لاکھ 78 ہزار روپے توشہ خانہ میں جمع کرواکر یہ تمام تحائف رکھ لیے تھے۔

صدر عارف علوی

صدر عارف علوی کو دسمبر 2018 میں ایک کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی ، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے ، جس میں سے انھوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔

اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہاراور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انھوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔جنوری 2019ء کوصدرعارف علوی کو قیمتی کلاشنکوف اے کے 47 تحفے میں ملی جس کی مالیت 6 لاکھ روپے تھی، صدرنے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے اے کے 47اپنے پاس رکھ لی۔

وزراء، اعلیٰ سول اورعسکری حکام و دیگر

وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول آفیسر مراد جنجوعہ کو 29 جنوری 2019 کو بیس لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، جو انھوں نے رقم ادا کرنے کے بعد رکھ لی۔

ستمبر 2018 میں سابق وزیراعظم کے چیف سکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی۔27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انھوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیے تھے جبکہ 9 فروری 2011 کووزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دو تحائف ادائیگی کر کے رکھ لیے تھے۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو 2005 میں گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے پانچ لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی جبکہ 16 اگست 2006ء کو جہانگیرترین نے ملنے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروادیا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2006 کو سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تحائف ملے جو انھوں نے دس ہزار روپے ادا کر کے خود رکھ لیے۔مئی 2006ء میں سابق وزیرمملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے ساڑھے چار لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی تھی۔ سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کو29فروری 2010ء کو سات لاکھ کی گھڑی ملی جو انھوں نے توشہ خانہ میں دے دی۔

28دسمبر2010ء کو صحافی رؤف کلاسرا نے ایک لاکھ بیس ہزار کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروائی۔ پانچ ستمبر2011 کو سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے بیس ہزار کا کارپٹ توشہ خانہ میں جمع کروایا اور بائیس دسمبر2011 کوسابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے چار لاکھ سے زیادہ مالیت کے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں