نورمقدم قتل کیس:اسلام آبادہائی کورٹ سے ظاہرجعفرکوایک اورپھانسی ،پہلی سزائے موت برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نورمقدم کے مشہورمقدمۂ قتل میں مجرم ظاہرجعفر کی سزائے موت کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اس کو سنائی گئی 25 سال قید کی سزا کو بھی ایک اور پھانسی میں تبدیل کردیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس سرداراعجازاسحاق خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے مجرم کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے بعد 21 دسمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مجرم ظاہرجعفر کی درخواست مستردکردی ہےجبکہ اس کے گھریلوملازمین محمدافتخار اور محمد جان کی درخواستیں بھی مستردکردی ہیں۔انھوں نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

27سالہ نورمقدم کو20 جولائی 2021ء کو دارالحکومت کے سیکٹرایف 7/4 میں ظاہرجعفر کی رہائش گاہ پر بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ مقتولہ کے والد سابق سفارت کارشوکت مقدم کی درخواست پراسی دن قتل کے مرکزی ملزم ظاہرجعفر کے خلاف پاکستان کے ضابطۂ فوجداری (پی پی سی) کی دفعہ 302 (منصوبہ بند قتل) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

24فروری 2022ء کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ظاہرجعفرکو مقدمے میں قصور وار قرار دے کرسزائے موت اور دو شریک ملزمان محمد افتخار اور جان محمد کو10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

مرکزی مجرم کے والد ذاکرجعفر اور والدہ عصمت آدم جی کے علاوہ ان کے کلینک تھراپی ورکس کے اہل کاروں پر بھی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے اکتوبر2021 میں فردِ جرم عاید کی تھی لیکن بعد میں ظاہرجعفرکو سزائے موت سنائے جانے کے وقت عدالت نے انھیں بری کردیاتھا۔

فیصلے کے بعد ظاہرجعفر نے اپنی سزائے موت کے خلاف مارچ 2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اورسیشن عدالت کے حکم کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائرکی تھی۔

مقدمہ کی تاریخ

اس مقدمہ میں ایف آئی آر درج ہونے اور قاتل ظاہرجعفرکی گرفتاری کے بعد،اس کے والدین اور گھریلو عملہ کو بھی پولیس نے 24 جولائی کو "ثبوت چھپانے اور جُرم میں ملوث ہونے" کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔انھیں مقتولہ نورمقدم کے والد کے بیان کی بنیاد پر تحقیقات کا حصہ بنایا گیا تھا۔

شوکت مقدم نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ وہ 19 جولائی کو عیدالاضحیٰ پرقربانی کے لیے بکرا خریدنے کے لیے راول پنڈی گئے ہوئے تھے اور ان کی اہلیہ درزی سے کپڑے لینے گئی ہوئی تھیں۔ جب وہ شام کو اسلام آباد میں واقع اپنے گھرلوٹے توبیٹی نور کو غیر حاضر پایا۔

انھوں نے جب اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اس کا سیل فون نمبر بند پایا اور اس کی تلاش شروع کردی۔ ایف آئی آر کے مطابق، کچھ دیر بعد نور نے اپنے والدین کو فون کرکے بتایا کہ وہ کچھ دوستوں کے ساتھ لاہورجارہی ہے اور ایک یا دودن میں واپس آ جائے گی۔

درخواست گزار نے کہا کہ بعد میں انھیں ظاہرجعفر کا فون آیا۔اس کے اہل خانہ ان کے جاننے والے تھے۔ایف آئی آر کے مطابق ظاہر نے شوکت کو بتایا تھا کہ نور ان کے ساتھ نہیں ہے۔

20جولائی کی رات قریباً 10 بجے مقتولہ کے والد کو کوہسارپولیس اسٹیشن سے فون آیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ نورکو قتل کردیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس شکایت کنندہ کو سیکٹرایف 7/4 میں ظاہرجعفر کے گھر لے گئی جہاں پتاچلا کہ ان کی بیٹی کو تیزدھارآلے سے بے دردی سے قتل کردیا گیا ہے اوراس کا سرتن سے جدا کردیا گیا تھا۔

شوکت مقدم نے اپنی بیٹی کی لاش کی شناخت کی اور قاتل ظاہرجعفر کوقانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔بعد ازاں پولیس کے روبرو بیان میں ظاہرجعفرنے نور کے قتل کا اعتراف کرلیا تھا جبکہ اس کے ڈی این اے ٹیسٹ اورفنگر پرنٹس سے بھی اس کے قتل میں ملوّث ہونے کی تصدیق ہوگئی تھی۔تھراپی ورکس کے چھے ملازمین کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا اورقاتل ظاہرجعفر کے والدین سمیت چھے دیگرافراد پر فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں